مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود ایرانی ریال کی قدر میں بڑا اضافہ، سرمایہ کاروں کی چاندی ہوگئی
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور شدید جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے باوجود عالمی مالیاتی ماہرین اس وقت حیران رہ گئے جب ایرانی کرنسی نے غیر متوقع طور پر استحکام دکھایا۔ معاشی تجزیہ کاروں اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ اضافے نے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور اس کی چند اہم وجوہات اب سامنے آگئی ہیں۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد اور بھاری خریداری
عام طور پر جنگی حالات میں کسی بھی ملک کی کرنسی گر جاتی ہے، لیکن ایران کے معاملے میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس وقت بڑے پیمانے پر ایرانی کرنسی خرید رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا اور ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ اسی امید پر لوگ مستقبل میں بڑے منافع کے لیے ایرانی ریال کی قدر میں مزید اضافے کا انتظار کر رہے ہیں اور موجودہ ریٹ پر کرنسی کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور ٹول ٹیکس کا نیا نظام
کرنسی کی مضبوطی کی ایک اور بڑی وجہ ایران کا اسٹریٹجک فیصلہ ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے ان جہازوں کو پابند کیا ہے کہ وہ ٹول ٹیکس کی ادائیگی یا تو چینی یوآن میں کریں یا پھر ایرانی ریال میں۔ اس اقدام نے بین الاقوامی سطح پر ایرانی ریال کی قدر کو سہارا دیا ہے کیونکہ اب عالمی شپنگ کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے یہ کرنسی خریدنی پڑ رہی ہے۔
پاکستانی روپے کے مقابلے میں بڑا فرق
ملک بوستان نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال اور اب کی صورتحال میں زمین آسمان کا فرق آچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے محض 2500 پاکستانی روپے میں ایک کروڑ ایرانی ریال مل جاتے تھے، لیکن اب ایرانی ریال کی قدر اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک کروڑ ایرانی ریال حاصل کرنے کے لیے 10 ہزار پاکستانی روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہ چار گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں اس کرنسی کی طلب کس قدر بڑھ چکی ہے۔
چین کا کردار اور ڈی ڈالرائزیشن
ایران کی جانب سے ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں تجارت کرنے کے فیصلے نے بھی ایرانی ریال کی قدر کو مستحکم کیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے روزانہ لاکھوں ڈالر مالیت کا ٹیکس ریال میں وصول کرنا ایران کے زر مبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو آنے والے دنوں میں ایرانی ریال کی قدر عالمی منڈی میں ایک نئی پوزیشن حاصل کر لے گی۔
مستقبل کی پیش گوئی
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایرانی ریال کی قدر میں یہ اچھال عارضی نہیں بلکہ ایک طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جیسے جیسے خطے میں امن کی امیدیں بڑھیں گی، ایرانی ریال کی قدر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے۔ فی الحال، کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال ایک "ہاٹ کیک” بن چکا ہے اور ہر کوئی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس وقت ایرانی ریال کی قدر نے ثابت کر دیا ہے کہ مشکل حالات میں بھی درست معاشی فیصلے کرنسی کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔