سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ، عالمی و مقامی مارکیٹیں تپ گئیں

سونے کی قیمت میں اضافہ پاکستان میں آج کا تازہ گولڈ ریٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی سطح پر سونا مہنگا، پاکستان میں قیمتوں میں بڑا اضافہ، چاندی بھی مہنگی

سونے کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں نمایاں موضوع بن چکا ہے، جہاں مسلسل تیسرے روز بھی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی بلین مارکیٹ میں ہونے والی تیزی کے اثرات براہ راست پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں سونا اور چاندی دونوں مہنگے ہو گئے ہیں۔

جمعہ کے روز بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 34 ڈالر فی اونس کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس اضافے کے بعد عالمی سطح پر سونے کی نئی قیمت 4 ہزار 676 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے، جو کہ حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

سونے کی قیمت میں اضافہ کا اثر پاکستان میں بھی فوری طور پر دیکھا گیا۔ مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار 400 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 90 ہزار 362 روپے تک پہنچ گئی۔ یہ قیمت عام صارفین کے لیے انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو شادی بیاہ یا سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 2 ہزار 915 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 20 ہزار 406 روپے ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں سونے کی طلب برقرار ہے جبکہ رسد میں کمی یا عالمی حالات کی وجہ سے قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عام طور پر سونے کے ساتھ ساتھ حرکت کرتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت بڑھ کر 73.10 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ اس کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی واضح نظر آئے، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت میں 160 روپے اضافہ ہوا اور نئی قیمت 7 ہزار 794 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام چاندی 138 روپے مہنگی ہو کر 6 ہزار 682 روپے ہو گئی۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافہ صرف ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی عالمی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں عالمی سیاسی کشیدگی، مرکزی بینکوں کی پالیسیز، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح، اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان شامل ہیں۔ خاص طور پر جب عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹس غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں، تو سرمایہ کار سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستان میں بھی مہنگائی کی بلند شرح، روپے کی قدر میں کمی، اور درآمدی اخراجات میں اضافہ سونے کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ چونکہ پاکستان سونا درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مقامی مارکیٹ میں منتقل ہو جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافے کے باوجود اس کی طلب میں مکمل کمی نہیں آئی۔ خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں سونے کی خریداری جاری رہتی ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں طلب برقرار رہتی ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات میں استحکام نہ آیا تو سونے کی قیمت میں اضافہ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کے فیصلے کریں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونا اب بھی ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ قیمتیں عام خریدار کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونا مزید مہنگا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف زیورات کی صنعت بلکہ عام صارفین پر بھی پڑیں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]