اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ، باقر قالیباف کا امریکا پر اعتماد سازی کا مطالبہ

اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ، باقر قالیباف کا امریکا پر اعتماد سازی کا مطالبہ، معاہدہ نہ ہونے کے باوجود بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش موجو

محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایران کا وفد اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے بعد واپس روانہ ہوگیا۔

ایرانی وفد کو ایئرپورٹ پر اسحاق ڈار، عاصم منیر، سردار ایاز صادق اور محسن نقوی نے الوداع کیا۔

ایرانی وفد میں اہم شخصیات شامل

اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے آنے والے ایرانی وفد میں:

محمد باقر قالیباف
عباس عراقچی
دیگر اعلیٰ حکام

شامل تھے۔

امریکا ایران مذاکرات کی تفصیلات

گزشتہ روز اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوئے۔

محمد باقر قالیباف ایران امریکا مذاکرات بیان
محمد باقر قالیباف کا امریکا ایران مذاکرات پر بیان

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ وفد میں:

جیرڈ کشنر
اسٹیو ویٹکوف

بھی شامل تھے۔

باقر قالیباف کا بیان

مذاکرات کے بعد محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا:

وقت آ گیا ہے کہ امریکا فیصلہ کرے کہ وہ ایران کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں
گزشتہ دو جنگوں کے باعث ایران کو مخالف فریق پر اعتماد نہیں
امریکا ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ چکا ہے
ایران نے مثبت اور مستقبل پر مبنی تجاویز پیش کیں


امریکی نائب صدر کا مؤقف

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی تاہم 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

انہوں نے کہا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی جا کر ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

جے ڈی وینس کے مطابق:

امریکا نے مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ کیا
ایران کے سامنے ریڈ لائنز واضح کی گئیں
معاہدہ نہ ہونے کے باوجود بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش موجود ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]