190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو 20 مئی تک حتمی مہلت دے دی

190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ہائیکورٹ کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کو آخری مہلت

190 ملین پاؤنڈ کیس میں Islamabad High Court نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور Bushra Bibi کے وکلاء کو دلائل دینے کے لیے 20 مئی تک حتمی مہلت دے دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ سماعت پر غیر ضروری التواء یا جان بوجھ کر عدم حاضری برداشت نہیں کی جائے گی۔

یہ حکم چیف جسٹس Sarfraz Dogar اور جسٹس Muhammad Asif پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا۔ عدالت کی جانب سے تحریری حکمنامہ بھی جاری کردیا گیا جس میں کیس کی حساس نوعیت اور اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین کو آخری موقع فراہم کیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے اپنے مؤکلین سے ہدایات لینے کے لیے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی۔ تاہم National Accountability Bureau نے اس التواء کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ کیس کو مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

تحریری حکمنامے میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت پر فریقین کو واضح طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں اور اپیلوں پر دلائل دیں، لیکن موجودہ سماعت کے دوران دلائل دینے کے بجائے کمزور وجوہات کی بنیاد پر التواء کی درخواست دائر کردی گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ مرکزی اپیلیں خود سلمان صفدر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، لہٰذا اب مقدمے کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر مناسب نہیں۔ بینچ نے کہا کہ کیس کی حساسیت اور عوامی اہمیت کے باعث فریقین کو آخری اور حتمی مہلت دی جا رہی ہے تاکہ 20 مئی کو دلائل مکمل کیے جا سکیں۔

سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق عدالت کے سخت ریمارکس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہائیکورٹ اس مقدمے کو مزید التواء کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس پہلے ہی ملکی سیاست اور عدالتی نظام میں خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

یہ کیس مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے گرد گھومتا ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیس کی سماعت ہر پیشی پر سیاسی حلقوں، میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے حامی اس کیس کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں جبکہ حکومتی حلقے اور نیب حکام مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ قانون کے مطابق شفاف احتسابی عمل جاری ہے۔ عدالت میں ہونے والی حالیہ کارروائی کے بعد سیاسی ماحول میں ایک بار پھر اس کیس پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر آئندہ سماعت پر بھی وکلاء کی جانب سے تاخیر یا غیر حاضری دیکھنے میں آئی تو عدالت سخت اقدامات کر سکتی ہے۔ اس میں اپیلوں پر یکطرفہ کارروائی یا مزید قانونی احکامات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی 190 ملین پاؤنڈ کیس ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا، جہاں صارفین نے عدالت کے فیصلے پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ بعض صارفین نے فوری انصاف کی ضرورت پر زور دیا جبکہ کچھ نے عدالتی کارروائی میں شفافیت اور غیر جانبداری کو اہم قرار دیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق 20 مئی کی سماعت کو اس کیس کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ عدالت واضح طور پر عندیہ دے چکی ہے کہ مزید غیر ضروری التواء قابل قبول نہیں ہوگا۔ اسی لیے تمام نظریں آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں جہاں فریقین کی جانب سے تفصیلی دلائل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر مزید اثرانداز ہوسکتا ہے کیونکہ اس مقدمے کے نتائج نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اس کیس کی ہر پیش رفت پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]