بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے بڑی خوشخبری، امدادی رقم بڑھانے کی تجویز زیر غور
پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے تناظر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام رقم میں اضافہ کی اہم تجویز سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کو کفالت پروگرام کے تحت دی جانے والی مالی امداد میں 5 ہزار 500 روپے اضافے کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن نے امدادی رقم کو بڑھا کر 20 ہزار روپے تک کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس کے بعد لاکھوں مستحق خاندانوں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ خاندانوں کے مکمل ڈیٹا اور مالی امداد کی تقسیم کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے وفد کو بتایا کہ پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں لاکھوں کم آمدنی والے خاندانوں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
بریفنگ میں شفافیت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
امدادی رقم بڑھنے کا امکان
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں پروگرام کی رقم میں اضافے کے امکانات روشن ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو بڑھتی مہنگائی کے باعث متاثر ہونے والے غریب اور متوسط طبقے کو اہم مالی سہارا مل سکتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران مہنگائی، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کم آمدنی والے طبقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بجٹ مذاکرات کا اگلا مرحلہ
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کا اگلا مرحلہ آج متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان تین اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
ان مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے ٹیکس اہداف، مالیاتی اصلاحات اور محصولات بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
ٹیکس وصولیوں کا بڑا ہدف
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ تاہم ایف بی آر اس ہدف میں نرمی یا کمی کیلئے کوششیں کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اتنا بڑا ٹیکس ہدف حاصل کرنا حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معیشت ابھی مکمل استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجاویز
مذاکرات میں مختلف شعبوں کو حاصل سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق رہائشی جائیدادوں کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ بعض جائیدادوں کو دی گئی سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی سفارشات پر بھی بات چیت جاری ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جا سکے۔
ڈیجیٹل انوائسنگ پر زور
آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان مذاکرات میں معیشت کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ڈیجیٹل انوائسنگ کا دائرہ کار بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس چوری کی روک تھام، شفافیت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
کفالت پروگرام کی اہمیت
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام تصور کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت لاکھوں خواتین اور کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسے پروگراموں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ غریب طبقات کیلئے براہ راست ریلیف کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امدادی رقم میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس سے قلیل مدت میں عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، تاہم طویل المدتی حل کیلئے روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر بھی توجہ دینا ضروری ہو گا۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام رقم میں اضافہ کی تجویز لاکھوں مستحق خاندانوں کیلئے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی سفارشات اور جاری بجٹ مذاکرات کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کیلئے مزید فنڈز مختص کر سکتی ہے۔

