اسلام آباد میں مارگلہ ہلز سے نایاب جانوروں کے شکار پر غیرملکی باشندہ گرفتار
Margalla Hills میں غیرقانونی شکار کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے Islamabad Wildlife Management Board نے ایک غیرملکی باشندے کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم پر نایاب جنگلی جانوروں، خصوصاً ہرن کے شکار اور وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ مارگلہ ہلز کے جنگلاتی علاقے میں غیرقانونی شکار کیلئے پھندے لگائے گئے ہیں۔ اطلاع ملنے پر محکمہ وائلڈ لائف نے خفیہ نگرانی کیلئے خصوصی ٹیم تعینات کی، جس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک غیرملکی شہری کو موقع سے گرفتار کر لیا۔
نایاب ہرن سمیت جنگلی جانوروں کا شکار
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے نایاب نسل کے ہرن سمیت متعدد جنگلی جانوروں کا شکار کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم رات گئے جنگلی جانوروں کو پھندوں میں پھنسا کر انہیں ہلاک کرتا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ایک ہرن پھندے میں پھنس کر ہلاک ہو چکا تھا، جسے ملزم نے بعد ازاں کاٹ کر باکس میں پیک کیا۔ حکام نے موقع سے شکار کیلئے استعمال ہونے والا سامان اور دیگر شواہد بھی تحویل میں لے لیے ہیں۔
خفیہ کارروائی اور گرفتاری
Islamabad Wildlife Management Board کے ذرائع کے مطابق شکار کیلئے لگائے گئے پھندوں کی اطلاع کے بعد خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ٹیم نے کئی روز تک خفیہ نگرانی جاری رکھی، جس کے بعد مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث غیرملکی شہری کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق دوران گرفتاری ملزم نے مزاحمت بھی کی اور ایک وائلڈ لائف اہلکار کو دانتوں سے کاٹ کر زخمی کر دیا، جس کے بعد اہلکار کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
مقدمہ درج
ذرائع کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف کی مدعیت میں تھانہ Kohsar Police Station میں 11 مئی کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ سیکٹر ای سیون کے قریب جنگل میں معائنے کے دوران شکار کیلئے لگائے گئے متعدد پھندے برآمد ہوئے۔ مقدمے میں یہ بھی درج ہے کہ جانوروں کے غیرقانونی شکار میں بعض مقامی افراد کے ساتھ غیرملکی شہری بھی ملوث ہیں۔
مارگلہ ہلز کی اہمیت
Margalla Hills پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا ایک اہم قدرتی اور ماحولیاتی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ مختلف اقسام کے جنگلی جانوروں، پرندوں اور نایاب نباتات کا مسکن ہے۔
ماہرین کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جہاں ہرن، جنگلی سور، لومڑی، تیتر اور مختلف اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔
غیرقانونی شکار، جنگلی حیات کیلئے خطرہ
وائلڈ لائف ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرقانونی شکار جنگلی حیات کیلئے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ پھندوں، جالوں اور غیرقانونی ہتھیاروں کے ذریعے جانوروں کا شکار نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتا ہے بلکہ کئی نایاب نسلوں کو معدومی کے خطرے سے بھی دوچار کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق شکار کیلئے استعمال ہونے والے پھندے اکثر دوسرے بے گناہ جانوروں کیلئے بھی جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
وائلڈ لائف قوانین پر سختی
حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے قوانین کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔ غیرقانونی شکار، جانوروں کی اسمگلنگ اور جنگلاتی حیات کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
عالمی سطح پر جنگلی حیات کا تحفظ
دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے سخت قوانین موجود ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی نایاب جانوروں کے تحفظ اور غیرقانونی شکار کے خاتمے کیلئے مختلف پروگرامز پر کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کا تحفظ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
مقامی آبادی کا کردار
ماہرین کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کا کردار بھی جنگلی حیات کے تحفظ میں اہم ہے۔ شہری اگر مشکوک سرگرمیوں یا غیرقانونی شکار کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تو ایسے جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔


مجموعی طور پر Margalla Hills میں غیرقانونی شکار کے خلاف حالیہ کارروائی جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نایاب جانوروں کے شکار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری
One Response