پنجاب شدید ہیٹ ویو الرٹ جاری
پنجاب شدید ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق صوبے بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 25 مئی سے 31 مئی تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہ سکتا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بالائی پنجاب میں درجہ حرارت 42 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جنوبی پنجاب میں 47 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
مختلف شہروں میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ اور دیگر اضلاع میں بھی شدید گرمی متوقع ہے۔ شہری علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ رات کے وقت بھی موسم معمول سے زیادہ گرم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید کے مطابق گرمی کی شدت کے ساتھ گرد آلود ہواؤں اور طوفان کا خطرہ بھی موجود ہے جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ ادارے مکمل تیاری رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ شہری علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے جائیں اور وہاں صاف پانی، او آر ایس اور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو سخت گرمی کے دوران خصوصی احتیاط برتنے کی تاکید کی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
ماہرین صحت کے مطابق شدید گرمی میں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے زیادہ پانی پینا، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا اور غیر ضروری جسمانی سرگرمیوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
ریسکیو ادارے الرٹ
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو 1122 کو ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے کیسز سے نمٹنے کیلئے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسپتالوں اور ریسکیو مراکز کو بھی ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت کے دوران بزرگ افراد، بچے اور بیمار شہری زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی خصوصی دیکھ بھال کی جائے۔
ماہرین کی شہریوں کو ہدایات
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں شہری کھلے مقامات پر زیادہ وقت گزارنے سے گریز کریں، کیفین والے مشروبات کم استعمال کریں اور پانی، جوس اور دیگر مشروبات کا زیادہ استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو چکر آنا، بے ہوشی، شدید پیاس یا جسمانی کمزوری محسوس ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جائے کیونکہ یہ ہیٹ اسٹروک کی علامات ہو سکتی ہیں۔
پنجاب میں گرمی کی نئی لہر
ماہرین موسمیات کے مطابق رواں سال گرمی کی شدت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید ہیٹ ویوز کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہریوں کو موسمی صورتحال کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

