محمد ظاہر شہید کی خبر نے پشاور سمیت پورے خیبرپختونخوا میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ پولیس کانسٹیبل محمد ظاہر، جو تھانہ متنی کی سرہ خاورہ چوکی پر ہونے والے ہینڈ گرنیڈ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق 27 فروری کو سرہ خاورہ چوکی پر ہینڈ گرنیڈ حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد اہلکار متاثر ہوئے تھے۔ حملے کے دوران زخمی ہونے والے کانسٹیبل محمد ظاہر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ طویل عرصے سے زیر علاج تھے۔
طبی کوششوں کے باوجود محمد ظاہر جانبر نہ ہو سکے اور دوران علاج انتقال کر گئے۔ ان کی شہادت کی خبر سامنے آنے کے بعد پولیس فورس اور شہری حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
محمد ظاہر شہید کی نماز جنازہ پشاور کے ملک سعد شہید پولیس لائن میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران، اہلکاروں، لواحقین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جنازے میں ڈاکٹر میاں سعید احمد، فرحان خان، علی گوہر سمیت دیگر سینئر پولیس افسران موجود تھے۔
پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی جبکہ افسران نے شہید کے جسد خاکی پر پھول چڑھائے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی۔ تقریب کے دوران شہید کی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد ظاہر نے فرض کی ادائیگی کے دوران بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس فورس امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے اور شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے قابل فخر سرمایہ ہیں۔
سرہ خاورہ چوکی پر ہونے والا حملہ ان واقعات میں شامل ہے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ادارے ایسے واقعات کی روک تھام اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائیوں کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پولیس اہلکاروں کی قربانیاں ملک میں امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ محمد ظاہر شہید کی قربانی بھی انہی بے مثال قربانیوں کی ایک کڑی ہے جو عوام کے تحفظ کے لیے دی جاتی ہیں۔
شہید کے اہل خانہ، ساتھی اہلکاروں اور دوستوں نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک فرض شناس، بہادر اور مخلص پولیس اہلکار تھے۔ ان کی شہادت پولیس فورس کے لیے بڑا نقصان ہے تاہم ان کی قربانی دوسروں کے لیے حوصلے اور عزم کی علامت بنے گی۔








