راہل گاندھی کی غزہ سے متعلق مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید، بی جے پی بوکھلائٹ کا شکار

راہل گاندھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور غزہ کے معاملے پر بیان دیتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

راہل گاندھی کی غزہ سے متعلق مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید، بی جے پی بوکھلائٹ کا شکار، غزہ پر واضح مؤقف اپنانے کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارتی پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اپنی آزاد خارجہ پالیسی اور انسانی اقدار کے مطابق غزہ کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے اداریے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایسے وقت میں اسرائیل کی حکمت عملی کے زیادہ قریب ہوتا جا رہا ہے جب دنیا کے کئی ممالک اس سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کی بھی نمائندگی کرنی چاہیے۔

انہوں نے غزہ میں متاثرہ فلسطینی شہریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ان فلسطینی خاندانوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے جو جنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔

ٹرمپ ایران بیان کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
صدر ٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکا کی شرائط تسلیم کر رہا ہے

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی سونیا گاندھی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے باعث بھارت کے فلسطین، ایران اور مشرق وسطیٰ میں روایتی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت عالمی رائے عامہ سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے۔

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی غزہ کی صورتحال پر حکومت سے پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے غزہ اور فلسطین کے معاملے پر اپنا مؤقف متعدد بار واضح کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے کہا کہ بھارت نے انسانی امداد فراہم کی، جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کی اور فلسطینی عوام کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

بی جے پی کا مؤقف ہے کہ کانگریس خارجہ پالیسی کو ووٹ بینک کی سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ موجودہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی نے اسرائیل اور عرب و مسلم ممالک دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

ادھر فلسطینی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ مالی بحران، جنگی حالات اور وسائل کی کمی کے باعث غزہ کا صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ فلسطینی حکام نے عالمی برادری سے فوری انسانی امداد کی اپیل بھی کی ہے۔

 

متعلقہ خبریں