آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین تک جاری رہیں گی، 1.5 کروڑ افراد کی شرکت متوقع

تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران امام خمینی مصلیٰ میں ہزاروں افراد کی شرکت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 3 سے 9 جولائی تک جاری رہیں گی، ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت متوقع، 9 جولائی کو مشہد میں تدفین کی مرکزی تقریب ہوگی

تہران: اسرائیلی میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز تہران کے مرکزی مذہبی و ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ سے ہو گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے ان کے تابوت پر حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات اور تدفین کی تقریبات 3 جولائی سے 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔ اس دوران تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں مختلف مذہبی و سرکاری تقریبات منعقد ہوں گی، جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں واقع روضۂ امام رضاؑ میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر تابوت
آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت آخری رسومات کے لیے تہران کی جامع مسجد پہنچا دیا گیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام نے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود کی تہران آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پاکستانی وفد بھی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ رہا ہے، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی وفد میں شامل ہیں۔

سپاہِ پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ کے مطابق تقریبات میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ہجوم کی تعداد دو کروڑ تک پہنچنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے زائرین کی سہولت کے لیے ہزاروں سروس مراکز قائم کیے ہیں، دس لاکھ سے زائد افراد کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اور تہران میں ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت کے لیے خصوصی منصوبہ نافذ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق عوامی الوداع کی تقریبات 4 اور 5 جولائی کو امام خمینی مصلیٰ میں منعقد ہوں گی، جس کے بعد 6 جولائی کو تہران، 7 جولائی کو قم، 8 جولائی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں تدفین کی مرکزی تقریب ہوگی۔

ادھر تقریبات کے دوران ایک اہم سوال آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت سے متعلق بھی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح نماز جنازہ کی امامت کون کرے گا، اس بارے میں بھی فی الحال کوئی باضابطہ اطلاع جاری نہیں کی گئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ آخری رسومات صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران میں مستقبل کی سیاسی قیادت، اقتدار کی منتقلی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں تہران میں جاری ان تقریبات پر مرکوز ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کہاں شروع ہوئیں؟

آخری رسومات کا آغاز تہران کے امام خمینی مصلیٰ سے کیا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کب ہوگی؟

سرکاری شیڈول کے مطابق تدفین کی مرکزی تقریب 9 جولائی کو مشہد میں منعقد ہوگی۔

کن ممالک کے وفود آخری رسومات میں شریک ہیں؟

ایرانی حکام کے مطابق مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، پارلیمانی سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود ان تقریبات میں شریک ہیں۔

کیا پاکستانی قیادت بھی ایران پہنچی ہے؟

جی، اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی وفد کے ہمراہ آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچے ہیں۔

تقریبات کتنے دن جاری رہیں گی؟

آخری رسومات اور سوگواری کی تقریبات 3 جولائی سے 9 جولائی تک مختلف مراحل میں جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبریں