ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، کمبوڈیا کے مبینہ آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورک سے وابستہ خاتون مسافر روک لی گئی
کمبوڈیا آن لائن فراڈ نیٹ ورک سے مبینہ تعلق کے الزام میں ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے ایک خاتون مسافر کو سری لنکا روانگی سے قبل آف لوڈ کرتے ہوئے مزید تحقیقات کیلئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران سامنے آنے والے انکشافات نے بین الاقوامی سائبر فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کے ممکنہ روابط پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق خاتون مسافر کی شناخت فاطمہ ساجد دختر ساجد وحید، رہائشی لاہور، کے طور پر ہوئی۔ خاتون سری لنکا جانے والی پرواز پر سفر کرنے والی تھی تاہم امیگریشن کلیئرنس کے دوران اس کے سفری حالات مشکوک محسوس ہونے پر اسے مزید جانچ پڑتال کیلئے روک لیا گیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے زیر انتظام ایک آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورک میں کام کر چکی ہے۔ خاتون کے مطابق اسے بیرون ملک اچھی ملازمت کا جھانسہ دیا گیا تھا اور کمبوڈیا بھیجنے کیلئے اس سے تقریباً دو لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے، جبکہ ویزا اور ٹکٹ کے انتظامات بھی اسی نیٹ ورک کی جانب سے کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران خاتون نے مزید بتایا کہ کمبوڈیا میں ایک جعلی آن لائن سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف ممالک کے شہریوں کو دھوکہ دیا جاتا تھا۔ اس مقصد کیلئے سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپلی کیشنز خصوصاً ٹیلی گرام کا استعمال کیا جاتا تھا۔ مبینہ طور پر صارفین کو سرمایہ کاری پر بھاری منافع کا لالچ دے کر رقم منتقل کروائی جاتی تھی۔
خاتون کے مطابق چینی آپریٹرز ملازمین کیلئے اہداف مقرر کرتے تھے اور کامیابی سے اہداف مکمل کرنے والوں کو تنخواہ اور کمیشن دیا جاتا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے صرف فراڈ نیٹ ورک میں کام ہی نہیں کیا بلکہ انسانی وسائل (HR) کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں اور متعدد پاکستانی شہریوں کو بھی اس کمپنی میں بھرتی کروایا۔
ایف آئی اے کے مطابق خاتون نے انکشاف کیا کہ اس کا ایک دوست، جس کا نام وکٹر بتایا گیا ہے، اسے سری لنکا بلا رہا تھا جہاں اسی نوعیت کی ایک اور آن لائن اسکیمنگ کمپنی میں ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس پہلو نے حکام کے شکوک کو مزید مضبوط کیا اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔
حکام نے خاتون کا موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک تجزیہ کیا، جس کے دوران متعدد اہم شواہد سامنے آئے۔ ایف آئی اے کے مطابق موبائل فون سے جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز، ٹیلی گرام چیٹس، مشتبہ رابطے، بھرتیوں سے متعلق معلومات اور دیگر ڈیجیٹل مواد برآمد ہوا ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر بین الاقوامی سائبر فراڈ، انسانی اسمگلنگ اور منظم ٹرانس نیشنل جرائم کے نیٹ ورک سے جڑا ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر کیس کو مزید تحقیقات کیلئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک میں آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کے ذریعے مختلف ممالک کے نوجوانوں کو پرکشش ملازمتوں کا جھانسہ دے کر بھرتی کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بعد ازاں ان افراد کو سائبر فراڈ، جعلی سرمایہ کاری اسکیموں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایف آئی اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے نام پر ملنے والی مشکوک پیشکشوں سے محتاط رہیں اور کسی بھی آفر کی تصدیق متعلقہ اداروں سے ضرور کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس نہ صرف مالی فراڈ میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات انسانی اسمگلنگ کے کیسز سے بھی منسلک پائے جاتے ہیں۔
READ MORE FAQS
خاتون مسافر کو کیوں آف لوڈ کیا گیا؟
امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک سفری حالات اور ممکنہ سائبر فراڈ نیٹ ورک سے تعلق کے شبے پر خاتون کو آف لوڈ کیا گیا۔
خاتون کہاں جا رہی تھی؟
خاتون سری لنکا جانے والی پرواز پر سفر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
خاتون نے کیا اعتراف کیا؟
اس نے اعتراف کیا کہ وہ کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے زیر انتظام ایک مبینہ آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورک میں کام کر چکی ہے۔
فراڈ کس طرح کیا جاتا تھا؟
جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز اور ٹیلی گرام کے ذریعے لوگوں کو سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر رقم حاصل کی جاتی تھی۔








