قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری سے منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں بل کی مختلف شقوں پر تفصیلی غور کیا گیا اور ارکان نے اس کے ممکنہ اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے کی۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے بل کی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا اور مزید وضاحت کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم کمیٹی کے بیشتر ارکان نے بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے انتظامی امور میں بہتری اور فیصلہ سازی کے عمل کو تیز بنانے کے لیے ضروری قرار دیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اجلاس کے دوران کہا کہ وزیراعظم کو اہم تقرریوں اور پالیسی فیصلوں کے حوالے سے مناسب اختیارات حاصل ہونے چاہییں تاکہ سرکاری امور میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق مؤثر حکمرانی کے لیے بعض معاملات میں فوری فیصلہ سازی ضروری ہوتی ہے۔
کمیٹی کے رکن چوہدری محمود بشیر ورک نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے ہر مرتبہ کابینہ اجلاس بلانا عملی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض فیصلے فوری نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے وزیراعظم کو مناسب حد تک اختیارات دینا انتظامی لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب وزارت قانون کے نمائندوں نے آئینی اور قانونی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ایک فیصلے کے مطابق کابینہ اجتماعی طور پر فیصلے کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس لیے اختیارات کی تقسیم اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار میں آئینی اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مجوزہ ترامیم کابینہ کی ہدایات اور پالیسی فیصلوں کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد انتظامی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنانا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں میں رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیر نجکاری ڈاکٹر محمد علی نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کو پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی فروخت سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم میں سے 10 ارب روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 45 ارب روپے حصص کی منتقلی کے بعد وصول ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کی بہتری اور آپریشنل استحکام کے لیے کمپنی میں 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری ایئرلائن کے بنیادی ڈھانچے، آپریشنز اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 30 جون 2025 تک پی آئی اے کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 191.534 ارب روپے تھی جبکہ واجبات 182.430 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔ ان واجبات میں 30.342 ارب روپے ملازمین کی پنشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ قلیل مدت میں نئے طیاروں کی خریداری ممکن نہیں، تاہم مستقبل کی حکمت عملی کے تحت فلیٹ کی بہتری پر کام جاری رکھا جائے گا۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کے طیاروں اور اسپیئر پارٹس پر ایک سال کے لیے جنرل سیلز ٹیکس (GST) سے استثنا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ مالی سال میں دیگر نجی ایئرلائنز کو بھی اسی نوعیت کی سہولت دینے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ ہوابازی کے شعبے میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ تمام ایئرلائنز کے لیے یکساں کاروباری ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک ادارے کو خصوصی رعایت دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہییں جن سے پورا شعبہ فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو سفارشات بھی ارسال کی جائیں گی۔
اجلاس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن نے مالیاتی مشیر کی خدمات سے متعلق بھی تفصیلات فراہم کیں۔ ان کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مقرر کیے گئے مالیاتی مشیر کو مجموعی طور پر 1 ارب 90 کروڑ روپے ادا کیے جانے تھے، جن میں سے 1 ارب 70 کروڑ روپے ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ 20 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہے۔
پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ مشیر نجکاری ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ کمپنی کے واجبات تقریباً 75 ارب روپے ہیں جبکہ اس کے اثاثے اور سرمایہ 25 ارب روپے کے قریب ہیں۔ حکام کے مطابق انہی مالیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کمپنی کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری اور مستقبل کے استعمال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کے پروفائل کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سٹی بینک کو مالیاتی مشیر مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کے مطابق بڈنگ کے عمل میں دو دیگر کمپنیاں بھی شامل رہی ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کفایت شعاری مہم کے باعث کمیٹی کے اجلاس کچھ عرصے سے تعطل کا شکار تھے، تاہم اب کوشش کی جائے گی کہ پارلیمانی نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کی منظوری کو ماہرین اقتصادیات حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق پیش رفت بھی آنے والے مہینوں میں ملکی معاشی پالیسیوں کا اہم موضوع بنی رہنے کی توقع ہے۔
READ MORE FAQS
- کون سا بل قائمہ کمیٹی نے منظور کیا؟
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026۔
- اجلاس کی صدارت کس نے کی؟
قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار نے۔
- بل پر کس رکن نے تحفظات کا اظہار کیا؟
پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے۔
- پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو کتنی رقم حاصل ہوگی؟
حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔








