کروڑوں افراد قبل از وقت سماعتی کمزوری کے خطرے میں، ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں

ذاتی آڈیو ڈیوائسز سے سماعتی کمزوری کے خطرے کی علامتی تصویر، ہیڈ فون استعمال کرتا نوجوان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کروڑوں افراد قبل از وقت سماعتی کمزوری کے خطرے میں، ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں

نیویارک: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہیڈ فون، ایئر فون اور دیگر ذاتی آڈیو ڈیوائسز کا زیادہ اور بلند آواز میں استعمال دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو قبل از وقت سماعتی کمزوری کے خطرے سے دوچار کر رہا ہے، جبکہ ایک بار سماعت متاثر ہونے کے بعد اسے قدرتی طور پر مکمل طور پر بحال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

امریکا کے کلیولینڈ کلینک سے وابستہ آڈیولوجسٹ ڈاکٹر ویلیری پاولووچ رف کے مطابق کان کے اندر موجود ننھے حسی خلیات (ہیئر سیلز) شور یا دیگر وجوہات سے متاثر ہو جائیں تو عموماً دوبارہ پیدا نہیں ہوتے، جس کے باعث سماعت مستقل طور پر کمزور ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں نوجوانوں کے لیےسوشل میڈیا پر رات کا کرفیو
برطانوی حکومت نے 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کے لیے رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک سوشل میڈیا کے استعمال پر مجوزہ کرفیو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سماعتی کمزوری صرف عمر رسیدہ افراد کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ نوجوانوں، نوعمروں اور کم عمر بچوں میں بھی اس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کان کے اندر موجود کوکلیا میں ہزاروں ننھے خلیات آواز کی لہروں کو برقی سگنلز میں تبدیل کر کے دماغ تک پہنچاتے ہیں، تاہم مسلسل یا بہت زیادہ بلند آواز ان خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق میوزک کنسرٹس، اسٹیڈیمز اور دیگر شور والے مقامات پر صرف 10 سے 15 منٹ تک بلند آواز میں رہنا بھی سماعت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے ایسے ماحول میں عام ایئر پلگ کے بجائے ہائی فِڈیلیٹی ایئر پلگ استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، جو آواز کی شدت کم کرتے ہیں لیکن معیار برقرار رکھتے ہیں۔

روزانہ ہیڈ فون یا ایئر فون زیادہ والیوم پر استعمال کرنا بھی خطرناک عادت قرار دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہیڈ فون لگانے کے دوران قریب موجود شخص کی عام آواز سنائی نہ دے تو اس کا مطلب ہے کہ والیوم محفوظ حد سے زیادہ ہے۔

تحقیقی اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 35 سال سے کم عمر تقریباً 1.35 ارب افراد ذاتی آڈیو ڈیوائسز کے زیادہ استعمال کے باعث قبل از وقت سماعتی کمزوری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ گھاس کاٹنے والی مشین، لیف بلوور، برقی آری، ڈرل مشین اور دیگر شور پیدا کرنے والے آلات کا طویل استعمال بھی سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین ایسے مواقع پر حفاظتی ایئر پلگ یا نوائز کینسلنگ حفاظتی ہیڈ فون استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر ضروری بلند آوازوں سے گریز، ہیڈ فون معتدل والیوم پر استعمال کرنا، شور والے ماحول میں حفاظتی ایئر پلگ پہننا اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طبی معائنہ کرانا انتہائی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں