نوشکی پولیو ٹیم حملہ: سیکیورٹی اسکواڈ پر فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید

نوشکی میں پولیو ٹیم سیکیورٹی پر فائرنگ کے بعد پولیس کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نوشکی میں انسدادِ پولیو ٹیم کے سیکیورٹی سکواڈ پر فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں انسدادِ پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہو گئے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور بلوچستان حکومت کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

واقعہ کہاں پیش آیا؟

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں پیش آیا، جہاں انسدادِ پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ شہید اہلکاروں کی لاشیں ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دی گئیں۔

حملہ آور سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے

پولیس کے مطابق حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ واقعے کے فوری بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

شہید اہلکاروں کے نام

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید ہونے والے اہلکاروں محمد یاسر اور عبدالروف کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا ردعمل

محسن نقوی نے انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے والی ٹیم پر حملہ درندہ صفت عناصر کا گھناؤنا اور ناقابلِ معافی فعل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ کرنے والے عبرتناک انجام کے مستحق ہیں۔

بلوچستان حکومت کا مؤقف

بلوچستان حکومت کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا کہ انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ دراصل بلوچستان کے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن اور بچوں کے مستقبل کا دشمن ہے۔

بابر یوسفزئی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن آئے، ترقی ہو اور بیماریوں کا خاتمہ ہو۔ ان کے مطابق فتنہ الہندوستان نہیں چاہتا کہ بلوچستان کے بچے صحت مند اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھیں۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم اور سیکیورٹی خطرات

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو ماضی میں بھی، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں، حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان حملوں کے باعث پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے انتظامات معمول کا حصہ بن چکے ہیں، تاکہ رضاکار اور اہلکار محفوظ ماحول میں اپنے فرائض سر انجام دے سکیں۔

READ MORE FAQS
  1. یہ حملہ کہاں ہوا؟
    بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں۔
  2. حملے میں کتنے اہلکار شہید ہوئے؟
    دو پولیس اہلکار، محمد یاسر اور عبدالروف، شہید ہوئے۔
  3. حملہ آور کیا لے کر فرار ہوئے؟
    حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ ساتھ لے گئے۔
  4. پولیس نے کیا کارروائی کی؟
    پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:32 AM
طلوع آفتاب05:56 AM
ظہر12:01 PM
عصر03:28 PM
مغرب06:06 PM
عشاء07:29 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6