اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ہراسگی درخواست پولیس یقین دہانی پر نمٹا دی

اسلام آباد ہائیکورٹ پی ٹی آئی رہنماؤں ہراسگی درخواست — عدالتی عمارت کی علامتی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کی یقین دہانی پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی ہراسگی کیخلاف درخواست نمٹا دی

اسلام آباد ہائیکورٹ پی ٹی آئی رہنماؤں ہراسگی درخواست کا معاملہ جمعرات کے روز عدالت میں زیرِ سماعت آیا، جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے لانگ مارچ سے قبل مبینہ ہراسگی کیخلاف دائر درخواست پر پولیس کی یقین دہانی کے بعد عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے اس درخواست کی سماعت کی، جو پی ٹی آئی رہنماؤں ملک عامر، شعیب شاہین اور دیگر کی جانب سے اس الزام پر دائر کی گئی تھی کہ لانگ مارچ سے قبل انہیں پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

درخواست کا پس منظر

سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج، ریلیوں یا لانگ مارچ کے اعلانات کے موقع پر اکثر یہ الزامات سامنے آتے ہیں کہ متعلقہ جماعت کے رہنماؤں اور کارکنان کو مقامی انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں شرکت سے باز رہیں۔ اسی نوعیت کے الزامات پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ عدالت پولیس کو ہراسگی سے روکنے کی ہدایت جاری کرے۔

سماعت کی تفصیلات

عدالتی حکم پر ایس ایس پی آپریشن قاضی علی رضا اور ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس حکام نے عدالت کے روبرو اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے درخواست گزاروں کو ہراساں نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی اقدام کیا جائے گا۔

پولیس حکام نے مزید وضاحت کی کہ اگر کسی شخص کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج ہو تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، تاہم یہ عمل ہراسگی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ قانونی تقاضوں کی تکمیل ہے۔ عدالت نے پولیس حکام کی اس یقین دہانی کو ریکارڈ پر لاتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

قانونی کارروائی اور ہراسگی میں فرق

اس کیس میں پولیس کے مؤقف سے ایک اہم قانونی نکتہ سامنے آتا ہے، یعنی ایف آئی آر کے اندراج اور اس پر ہونے والی قانونی کارروائی کو ہراسگی سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کے قانونی نظام میں کسی بھی شخص کے خلاف اگر مقدمہ درج ہو تو تفتیشی عمل، طلبی یا گرفتاری جیسے اقدامات قانون کے تحت جائز طریقہ کار کا حصہ ہوتے ہیں، جبکہ ہراسگی سے مراد ایسے اقدامات ہیں جو قانونی جواز کے بغیر کسی شخص کو ذہنی یا جسمانی طور پر ہراساں کرنے کیلئے کیے جائیں۔

عدالتوں میں اکثر ایسے مقدمات میں یہی امتیاز طے کرنا مرکزی نکتہ ہوتا ہے کہ آیا انتظامیہ کی کارروائی قانون کے دائرے میں ہے یا اس کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا فرد کو دباؤ میں لانا ہے۔

سیاسی تناظر

یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی جب پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں لانگ مارچ اور احتجاج کی کالیں دی جا رہی ہیں۔ اس نوعیت کے مواقع پر سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین تناؤ کی خبریں معمول بن جاتی ہیں، اور عدالتیں اکثر ایسے معاملات میں دونوں فریقین کے مؤقف کو سن کر توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

عدالت کی جانب سے پولیس کی تحریری یا زبانی یقین دہانی کو ریکارڈ پر لے کر درخواست نمٹانے کا طریقہ کار اکثر ایسے مقدمات میں اپنایا جاتا ہے جہاں فوری حکمِ امتناع یا تفصیلی فیصلے کی بجائے فریقین کے مابین معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے۔

عدالتی روایت اور اس نوعیت کے مقدمات

اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت ملک کی مختلف اعلیٰ عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراسگی، جھوٹے مقدمات یا انتظامی زیادتی کیخلاف درخواستیں وقتاً فوقتاً دائر ہوتی رہتی ہیں۔ عدالتیں عموماً متعلقہ حکام کو طلب کر کے ان سے وضاحت طلب کرتی ہیں اور اگر متعلقہ ادارہ تسلی بخش یقین دہانی کرا دے تو عدالت مزید کارروائی کی بجائے معاملہ نمٹا دیتی ہے، جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔

اس طرزِ عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کسی بھی شہری یا سیاسی کارکن کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، جبکہ ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے قانونی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ ہو۔

درخواست گزار رہنماؤں کا مؤقف

درخواست میں شامل پی ٹی آئی رہنماؤں ملک عامر اور شعیب شاہین نے موقف اختیار کیا تھا کہ لانگ مارچ سے قبل انہیں اور دیگر کارکنان کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جو ان کے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حق میں رکاوٹ ہے۔ تاہم پولیس کی یقین دہانی کے بعد عدالت نے اس تشویش کو دور کرتے ہوئے کیس نمٹانے کا فیصلہ کیا۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اگرچہ عدالت نے فی الحال یہ درخواست نمٹا دی ہے، تاہم اگر مستقبل میں دوبارہ ایسی ہی شکایات سامنے آئیں تو درخواست گزاروں کے پاس دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے کا آپشن موجود رہے گا۔ عدالتی ریکارڈ پر موجود پولیس کی یقین دہانی مستقبل میں کسی بھی نئی درخواست میں ایک اہم حوالے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ پی ٹی آئی رہنماؤں ہراسگی درخواست کا معاملہ پولیس کی یقین دہانی پر خوش اسلوبی سے نمٹا دیا گیا۔ پولیس حکام نے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کو ہراساں نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقبل میں کیا جائے گا، جبکہ قانونی کارروائی صرف ایف آئی آر کی صورت میں قانون کے مطابق کی جاتی ہے۔ عدالت نے اس یقین دہانی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے درخواست کو نمٹا دیا۔

Read more FAQs.

س: اسلام آباد ہائیکورٹ میں کس معاملے کی سماعت ہوئی؟
ج: پی ٹی آئی رہنماؤں ملک عامر، شعیب شاہین اور دیگر کی جانب سے لانگ مارچ سے قبل ہراسگی کیخلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔

س: سماعت کس جج نے کی؟
ج: جسٹس انعام امین منہاس نے جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کی۔

س: پولیس حکام نے عدالت میں کیا مؤقف اپنایا؟
ج: پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی کہ درخواست گزاروں کو ہراساں نہیں کیا گیا اور نہ ہی آئندہ کیا جائے گا۔

س: کیس میں کون سے پولیس افسران پیش ہوئے؟
ج: ایس ایس پی آپریشن قاضی علی رضا اور ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ عدالتی حکم پر پیش ہوئے۔

س: عدالت نے درخواست پر کیا فیصلہ دیا؟
ج: پولیس کی یقین دہانی پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

س: ایف آئی آر اور ہراسگی میں کیا فرق بتایا گیا؟
ج: پولیس حکام نے وضاحت کی کہ اگر کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہو تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، جسے ہراسگی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:34 AM
طلوع آفتاب05:57 AM
ظہر12:00 PM
عصر03:27 PM
مغرب06:03 PM
عشاء07:26 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6