ترکیہ میں حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب مقام پر زیرِ زمین ڈرون سے تحقیق، نامیاتی مواد کے نمونے دریافت
آغری، ترکیہ، 26 ستمبر 2026: ترکیہ میں کوہِ ارارات کے قریب واقع متنازع دوروپینار (Durupınar) فارمیشن ایک بار پھر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے متعلق بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مقام پر تحقیق کرنے والی بین الاقوامی ٹیم نے تنگ زیرِ زمین راستوں کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی گوفر (Gopher) زیرِ زمین ڈرون استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے وسیع پیمانے پر کھدائی کیے بغیر زیرِ زمین ساخت کا جائزہ لینے اور وہاں موجود مواد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
زیرِ زمین ڈرون سے کیا معلوم کرنے کی کوشش؟
رپورٹس کے مطابق ترک حکام کی اجازت سے جاری تحقیقی سرگرمیوں کے دوران کور ڈرلنگ کے ذریعے بنائے گئے سوراخوں میں خصوصی ڈرون اتارنے کی کوشش کی گئی۔ یہ روبوٹک نظام تنگ اور مشکل زیرِ زمین مقامات میں حرکت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تحقیق کا مقصد دوروپینار فارمیشن کے اندر موجود ساخت، تہوں اور ممکنہ نامیاتی مواد کا جائزہ لینا ہے، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ ڈرون نے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا اندرونی حصہ دریافت کرلیا ہے۔
18 میٹر گہرائی سے نمونے حاصل

تحقیقی ٹیم کے مطابق کور ڈرلنگ کے دوران اب تک تقریباً 18 میٹر گہرائی سے مختلف نمونے حاصل کیے جاچکے ہیں۔
ابتدائی مشاہدات میں نامیاتی مواد سے بھرپور تہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ بعض نمونوں میں لکڑی سے مشابہ مواد بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ ان نمونوں کو مزید سائنسی جانچ کے لیے محفوظ کیا گیا ہے۔
محققین کے مطابق نمونوں پر کاربن ڈیٹنگ، معدنیاتی تجزیے، مائیکروسکوپک معائنہ اور دیگر لیبارٹری ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ ان کی اصل، عمر اور تشکیل کے بارے میں زیادہ درست معلومات حاصل ہوسکیں۔
کیا ڈرون نے حضرت نوحؑ کی کشتی کے اندرونی مناظر ریکارڈ کرلیے؟
اس حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں زیرِ زمین ڈرون کی مدد سے فارمیشن کے اندرونی حصوں کی تصاویر یا مشاہدات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اسے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے اندرونی مناظر قرار دینا فی الحال سائنسی طور پر ثابت شدہ بات نہیں۔
دوروپینار فارمیشن کو کئی دہائیوں سے بعض محققین حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب کرتے آئے ہیں، لیکن ماہرینِ ارضیات کے ایک مختلف مؤقف کے مطابق یہ ساخت قدرتی ارضیاتی عوامل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہوسکتی ہے۔
دوروپینار فارمیشن کہاں واقع ہے؟
دوروپینار فارمیشن ترکیہ کے صوبہ آغری میں، دوغوبایزید کے قریب واقع ہے۔ یہ کوہِ ارارات کے جنوب میں واقع ایک کشتی نما ارضیاتی ساخت ہے، جسے نوحؑ کی کشتی سے منسوب کرنے کی وجہ بنیادی طور پر اس کی غیر معمولی شکل اور اس مقام پر ہونے والی مختلف تحقیقی سرگرمیاں ہیں۔
رپورٹس میں اس ساخت کی لمبائی تقریباً 538 فٹ بتائی جاتی ہے۔ اس مقام پر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف جیو فزیکل اور ارضیاتی طریقوں کے ذریعے تحقیق کی جارہی ہے۔

2021 سے تحقیق کا سلسلہ جاری
استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی، آغری ابراہیم سیسن یونیورسٹی اور امریکا کی اینڈروز یونیورسٹی سے وابستہ محققین سمیت مختلف ماہرین نے گزشتہ برسوں میں دوروپینار فارمیشن پر تحقیق کی ہے۔
تحقیقی سرگرمیوں میں گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار (GPR)، الیکٹریکل ریزسٹیویٹی ٹوموگرافی (ERT)، LiDAR، کور ڈرلنگ اور دیگر جیو فزیکل تکنیکیں استعمال کی جارہی ہیں۔
محققین ان طریقوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فارمیشن کے اندر موجود تہیں اور ساختیں کس نوعیت کی ہیں اور آیا ان میں کسی قدیم انسانی سرگرمی کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں یا نہیں۔
نامیاتی مواد کی دریافت کتنی اہم ہے؟
نامیاتی مواد کی موجودگی تحقیق کے لیے قابلِ توجہ ضرور ہے، لیکن صرف نامیاتی مواد ملنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حضرت نوحؑ کی کشتی کا حصہ ہے۔
اصل اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب لیبارٹری تجزیوں سے یہ معلوم ہوگا کہ حاصل کیے گئے مواد کی عمر کیا ہے، وہ کس ماحول میں تشکیل پایا اور آیا اس کی نوعیت کسی قدیم انسانی تعمیر سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔
اسی لیے سائنس دان حتمی نتیجے کے لیے مزید نمونوں، جیو فزیکل ڈیٹا اور لیبارٹری نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
حتمی نتیجے کے لیے مزید تحقیق ضروری
دوروپینار فارمیشن سے متعلق تحقیق نے ایک بار پھر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے ممکنہ مقام کے بارے میں دلچسپی پیدا کردی ہے، تاہم موجودہ شواہد کو حتمی ثبوت قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
زیرِ زمین ڈرون، کور ڈرلنگ اور لیبارٹری تجزیوں سے حاصل ہونے والے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ اس غیر معمولی چٹانی ساخت کی اصل نوعیت کیا ہے اور اس میں موجود نامیاتی مواد کہاں سے آیا۔
فی الحال تحقیق کا عمل جاری ہے اور محققین نے حتمی سائنسی نتیجہ سامنے آنے سے قبل دوروپینار فارمیشن کو حضرت نوحؑ کی کشتی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔
FIRST LOOK: footage from inside Noah’s Ark. Gopher drone was sent down into the core drilling holes in an attempt to reach the mapped voids pic.twitter.com/pHWq3mYJY8
— Ayo 🇾🇪 (@Whotfisayo) September 25, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: دوروپینار فارمیشن کہاں واقع ہے؟
جواب: دوروپینار فارمیشن ترکیہ کے صوبہ آغری میں دوغوبایزید کے قریب کوہِ ارارات کے علاقے میں واقع ہے۔
سوال 2: کیا دوروپینار فارمیشن حضرت نوحؑ کی کشتی ثابت ہوگئی ہے؟
جواب: نہیں، موجودہ تحقیق کی بنیاد پر اسے حضرت نوحؑ کی کشتی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس حوالے سے سائنسی تحقیق اور تجزیے جاری ہیں۔
سوال 3: محققین نے دوروپینار پر کیا دریافت کیا؟
جواب: تحقیقی سرگرمیوں کے دوران تقریباً 18 میٹر گہرائی سے مختلف نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں نامیاتی مواد سے بھرپور تہوں اور لکڑی سے مشابہ مواد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سوال 4: دوروپینار پر زیرِ زمین ڈرون کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟
جواب: خصوصی زیرِ زمین ڈرون کا مقصد تنگ اور مشکل مقامات کا جائزہ لینا اور وسیع پیمانے پر کھدائی کے بغیر فارمیشن کے اندرونی حصوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔





