لانگ مارچ کسی بیک ڈور رابطے کی وجہ سے ملتوی نہیں کیا: سلمان اکرم راجہ
لاہور: پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بیک ڈور رابطوں کی وجہ سے لانگ مارچ ملتوی ہونے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
بیک ڈور رابطوں کی تردید
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ کسی بیک ڈور رابطے کی وجہ سے ملتوی نہیں کیا گیا، بلکہ یہ پارٹی کا اپنا فیصلہ تھا۔
حکومت کو مزید وقت دینے کا مؤقف
ان کے مطابق لانگ مارچ ملتوی کرنے کے بعد ابھی تک حکومت نے مذاکرات کا کوئی سگنل نہیں دیا، لیکن پی ٹی آئی نے حکومت کو مزید وقت دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔
رابطوں پر مؤقف
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر کوئی بات ہوگی تو علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی رابطہ کاری ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ فوری منظرِ عام پر آئے۔
دہشتگردی کی لہر اور مذاکرات
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی تازہ لہر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ سب مل بیٹھ کر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں کوئی فیصلہ ہوا تو پارٹی اس کی پاسداری کرے گی۔
بانی پی ٹی آئی کی منتقلی کا مطالبہ
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کا مطالبہ یہی ہے کہ بانی کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے۔
لانگ مارچ کی تیاریاں اور التوا
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، اور ذرائع ابلاغ میں پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاسوں میں اسے ملتوی کرنے کی مختلف تجاویز رپورٹ ہوئی تھیں۔ پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے ایک اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اجلاس میں کسی نے مارچ ملتوی کرنے کی رائے نہیں دی۔ اس دوران حکومتی سطح پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں راستے بند کرنے اور سکیورٹی بڑھانے کے اقدامات بھی سامنے آئے۔ التوا کی حتمی تاریخ اور تفصیل پی ٹی آئی کے باضابطہ اعلان سے ہی معلوم ہو سکے گی۔
READ MORE FAQS
- سلمان اکرم راجہ نے کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کسی بیک ڈور رابطے کی وجہ سے ملتوی نہیں کیا گیا، یہ پارٹی کا اپنا فیصلہ تھا۔ - کیا حکومت نے مذاکرات کا اشارہ دیا ہے؟
ان کے مطابق ابھی تک حکومت نے مذاکرات کا کوئی سگنل نہیں دیا۔ - پی ٹی آئی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی وجہ کیا بتائی؟
ان کے مطابق حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کے لیے مزید وقت دینا مقصود تھا۔ - مذاکرات کی صورت میں کون رابطے میں ہوگا؟
سلمان اکرم راجہ کے مطابق علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی موجود ہیں۔






