وفاق نے گزشتہ 2 سال کے دوران این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو 2 ہزار 347 ارب روپے فراہم کیے
وفاق کی جانب سے گزشتہ 2 سال کے دوران این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیل سامنے آ گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی دستاویز کے مطابق اس مدت میں صوبے کو 2 ہزار 347 ارب روپے دیے گئے۔
دونوں سالوں کی تفصیل
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق وفاق نے خیبرپختونخوا کو مالی سال 2025-26 میں 1,244 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں 1,103 ارب روپے دیے گئے۔ یہ فنڈ وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو منتقل کیے۔
| مالی سال | این ایف سی کے تحت رقم |
|---|---|
| 2024-25 | 1,103 ارب روپے |
| 2025-26 | 1,244 ارب روپے |
| کل | 2,347 ارب روپے |
این ایف سی ایوارڈ کیسے کام کرتا ہے؟
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت ٹیکس آمدنی کا حصہ صوبوں کو دیتی ہے، اور ہر صوبے کو طے شدہ فارمولے کے تحت حصہ ملتا ہے۔ حکام کے مطابق ایف بی آر کی 57.5 فیصد ٹیکس آمدنی صوبوں کو منتقل ہوتی ہے، جبکہ نان ٹیکس آمدنی وفاق کے پاس رہتی ہے اور صوبوں کو منتقل نہیں ہوتی۔
پیٹرولیم لیوی پر وضاحت
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی آمدنی نان ٹیکس ریونیو ہے، جس میں صوبوں کو حصہ نہیں ملتا۔
وفاق اور صوبے کے متضاد دعوے
خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے ماضی میں وفاق پر مختلف واجبات نہ دینے کے الزامات لگا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر صوبائی معاون خصوصی شفیع جان نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاق کے ذمے صوبے کے تقریباً 4 کھرب روپے کے واجبات ہیں، جن میں پن بجلی منافع، پیٹرولیم و گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور ضم اضلاع کے لیے فنڈز کے معاملات شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے ایک اور دستاویز میں کہا تھا کہ صوبے کے کوئی بقایا جات نہیں ہیں۔ یہ دونوں دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ان کا فیصلہ آزاد آڈٹ یا سرکاری ریکارڈ کی مکمل تفصیل سے ہی ہو سکتا ہے۔
وفاق اور صوبے کے درمیان فنڈز پر بحث خصوصاً سکیورٹی اور دہشتگردی سے نمٹنے کے وسائل کے تناظر میں اہم ہے۔ تاہم یہ اعداد صرف این ایف سی ایوارڈ کے تحت منتقلی کے ہیں۔ صوبے کو دیگر مدوں (جیسے ضم اضلاع کی گرانٹس، پن بجلی منافع اور رائلٹی) میں الگ سے ملنے والی رقوم اس میں شامل نہیں، اس لیے کسی بھی موازنے میں ایک جیسی مدوں کا موازنہ ضروری ہے۔
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق وفاق نے گزشتہ 2 سال میں خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2,347 ارب روپے فراہم کیے۔ وفاقی حکام کے مطابق ایف بی آر کی 57.5 فیصد ٹیکس آمدنی صوبوں کو منتقل ہوتی ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی نان ٹیکس آمدنی ہونے کی وجہ سے صوبوں کو نہیں ملتی۔ صوبائی حکومت کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں۔
READ MORE FAQS
- وفاق نے خیبرپختونخوا کو 2 سال میں کتنی رقم دی؟
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2,347 ارب روپے۔ - ہر سال کی رقم کتنی تھی؟
مالی سال 2024-25 میں 1,103 ارب اور 2025-26 میں 1,244 ارب روپے۔ - ایف بی آر کی کتنی ٹیکس آمدنی صوبوں کو ملتی ہے؟
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق 57.5 فیصد۔ - کیا پیٹرولیم لیوی میں صوبوں کا حصہ ہے؟
حکام کے مطابق نہیں، کیونکہ یہ نان ٹیکس ریونیو ہے۔






