اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کی لاش برآمد، امریکا بھیجنے کے نام پر 50 لاکھ روپے فراڈ کا شبہ
اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی لاش گرین بیلٹ سے ملنے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالبہ نے امریکا جانے کے لیے ایک ایجنٹ کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے، جبکہ دستاویزات جعلی ہونے کا انکشاف سامنے آنے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
پولیس کی فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً 20 سے 22 سالہ لائبہ اعجاز، دختر محمد اعجاز، تھانہ رمنا کی حدود میں جی 10 مرکز کے گلستان پلازہ میں رہائش پذیر تھیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔
طالبہ کی لاش اتوار بازار کے قریب ٹریفک پولیس کی پرانی چوکی کے ساتھ گرین بیلٹ سے ملنے کی اطلاع ملی۔ پولیس حکام کے مطابق واقعہ بظاہر خودکشی کا معلوم ہوتا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
امریکا جانے کے لیے 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا دعویٰ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق لائبہ اعجاز نے امریکا جانے کے لیے نعمان نامی ایجنٹ کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات جعلی نکلنے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد طالبہ شدید ذہنی دباؤ میں تھیں۔
تاہم رقم کی ادائیگی، دستاویزات کی نوعیت اور مبینہ فراڈ میں ایجنٹ کے کردار کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ پولیس نے اس پہلو سے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ طالبہ کو بیرون ملک بھیجنے کے نام پر دھوکا دیا گیا تھا یا نہیں۔
اگر تحقیقات میں فراڈ ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ بیرون ملک تعلیم یا سفر کے خواہش مند افراد کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے والے ایجنٹوں کے طریقۂ کار پر بھی اہم سوالات اٹھائے گا۔
دوپہر گھر سے نکلیں، لوکیشن سے اہل خانہ مقام تک پہنچے
پولیس کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق لائبہ 9 اکتوبر کو دوپہر تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھیں۔ جب وہ واپس نہ پہنچیں تو اہل خانہ نے ان کی تلاش شروع کردی۔
اطلاعات کے مطابق موبائل فون کی لوکیشن کی مدد سے اہل خانہ گرین بیلٹ کے قریب پہنچے، جہاں طالبہ کی لاش ملنے کی اطلاع سامنے آئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ رمنا کے ایس ایچ او، ہومی سائیڈ یونٹ اور دیگر سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے۔ پولیس نے شواہد جمع کرنے اور واقعے کے حالات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردیں۔
خودکشی یا کسی اور وجہ سے موت؟ پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے، لیکن موت کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، اہل خانہ کے بیانات اور دیگر دستیاب معلومات کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جارہی ہیں۔
پولیس مبینہ ایجنٹ کے کردار اور مالی لین دین کی بھی چھان بین کررہی ہے۔ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے نہ موت کی وجہ کو قطعی قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی شخص کو مبینہ فراڈ کا ذمہ دار ٹھہرانا درست ہوگا۔
بیرون ملک بھیجنے کے نام پر فراڈ، ایک سنگین مسئلہ
یہ واقعہ بیرون ملک تعلیم یا ملازمت کے لیے جانے کے خواہش مند نوجوانوں کے ساتھ ممکنہ دھوکا دہی کے خطرات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ بعض افراد بیرون ملک جانے کے لیے بڑی رقم ایجنٹوں کے حوالے کردیتے ہیں، لیکن دستاویزات، ویزا یا داخلے سے متعلق دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے پر انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ماہرین کی عمومی ہدایت ہے کہ بیرون ملک تعلیم، ویزا یا ملازمت کے لیے کسی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت، متعلقہ ادارے کی منظوری اور دستاویزات کی اصلیت کی تصدیق کی جائے۔ ادائیگی کا باقاعدہ ریکارڈ اور تحریری معاہدہ بھی محفوظ رکھنا چاہیے۔
اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے واقعے میں مبینہ فراڈ ثابت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ پولیس تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔
واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے موت کی وجوہات کے تعین میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ان ظالم ایجنٹوں نے اس ملک میں لاکھوں لوگوں کو چونا لگایا ہے ، یہ لاش ہمارے بچوں کی لاش ہے لیکن کوئی بھی لعنتی اس کی تحقیقات نہیں کرے گا کیونکہ یہ بے غیرت اور گھٹیا سسٹم اس ساری حرام زدگی کا مرکزی حصے دار ہے ۔
موضوع: مبینہ خودکشی کا واقعہ — تھانہ رمنا، صدر زون، اسلام آباد
مورخہ: 09-10-2026
▪️ تھانہ رمنا کے علاقے G-10 مرکز میں واقع گلستان پلازہ، فلیٹ نمبر 8 کی رہائشی لائبہ اعجاز دختر محمد اعجاز، عمر تقریباً 20 تا 22 سال، غیر شادی شدہ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔
▪️ مذکورہ طالبہ کی لاش اتوار بازار کے قریب ٹریفک پولیس کی پرانی چوکی کے ساتھ گرین بیلٹ سے ملنے کی اطلاع ہے، جہاں مبینہ طور پر انہوں نے خودکشی کی۔
▪️ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مذکورہ طالبہ نے امریکہ جانے کے لیے نعمان نامی ایجنٹ کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی نکلنے کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ تاہم واقعے کی وجوہات کی تصدیق پولیس تفتیش کے بعد ہوگی۔
▪️ اطلاعات کے مطابق، مذکورہ طالبہ آج دوپہر تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھیں۔ تلاش کے دوران ان کی لوکیشن مذکورہ مقام پر موصول ہوئی۔
▪️ ایس ایچ او تھانہ رمنا، ہومی سائیڈ یونٹ اور دیگر سینئر پولیس افسران موقع پر موجود ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
مزید نگرانی و تفتیش جاری ہے۔
— Sabookh Syed | Journalist (@SaboohSyed) October 9, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کی لاش کہاں سے ملی؟
پولیس کے مطابق طالبہ کی لاش اسلام آباد میں سنڈے بازار کے قریب گرین بیلٹ سے ملی۔
سوال 2: طالبہ کے امریکا جانے کے معاملے میں کیا دعویٰ سامنے آیا؟
ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ نے امریکا جانے کے لیے ایک ایجنٹ کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ اس معاملے کی تصدیق اور تحقیقات متعلقہ حکام کے ذمے ہیں۔
سوال 3: پولیس اس واقعے میں کن پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے؟
پولیس واقعے کے حالات، مبینہ مالی فراڈ اور متعلقہ افراد کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے۔
سوال 4: کیا طالبہ کی موت کی حتمی وجہ سامنے آ گئی ہے؟
نہیں، حتمی وجہ کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس تحقیقات کے نتائج کا انتظار ہے۔





