خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 10 ارکان اسمبلی مبینہ طور پر لاپتہ، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ
پشاور: خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 10 ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے اٹھائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وہ خود گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کے 10 ارکان اسمبلی مبینہ طور پر لاپتہ
میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران جماعت کے 10 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور وزرا کو نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
ان میں سات ارکان صوبائی اسمبلی اور تین ارکان قومی اسمبلی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض واقعات کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرانے اور پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔

مبینہ طور پر لاپتہ یا اٹھائے جانے والے ارکان میں صوبائی وزرا ڈاکٹر امجد علی اور فضل شکور خان، جبکہ ارکان اسمبلی عبدالسلام آفریدی، محمد ریاض، سلطان روم، یامین خان اور فتح الملک علی ناصر شامل ہیں۔
قومی اسمبلی کے ارکان فضل محمد خان، زبیر خان اور داور خان کنڈی کے بارے میں بھی پی ٹی آئی اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے ایسے دعوے کیے گئے ہیں۔
نامعلوم نقاب پوش افراد پر ارکان کو اٹھانے کا الزام
میڈیا کے مطابق، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ 9 اکتوبر کی رات نامعلوم نقاب پوش افراد ان کے حجرے میں داخل ہوئے، توڑ پھوڑ کی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
ڈاکٹر امجد علی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو واقعے سے آگاہ کر دیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں بعض واقعات کی ویڈیوز کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم بی بی سی اردو نے واضح کیا کہ وہ ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ بعض ویڈیوز خیبرپختونخوا اسمبلی کی کارروائی کے دوران بھی دکھائی گئی تھیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے بقول یہ معمول کی گرفتاریاں نہیں بلکہ اغوا اور غیر قانونی حراست کے واقعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کارروائیوں میں ملوث افراد کون ہیں اور آیا وہ پولیس اہلکار ہیں یا سادہ لباس میں موجود افراد۔

طارق سعید کے مطابق انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا کو خط لکھ کر واقعات کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کے تحفظ کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اس معاملے کا نوٹس لے چکے ہیں اور ارکان اسمبلی کی گرفتاری کے حوالے سے قانونی تقاضوں پر عمل ہونا چاہیے۔
میڈیا کے مطابق، خبر شائع ہونے تک آئی جی خیبرپختونخوا کی جانب سے مؤقف موصول نہیں ہوا تھا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر دباؤ کے حوالے سے تجزیہ
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی اور وزرا کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات غیر معمولی ہیں۔ ان کے مطابق، ان واقعات سے صوبائی حکومت کی انتظامی عمل داری کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کار علی اکبر کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد جماعت کی لانگ مارچ مہم کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ یہ مؤقف پی ٹی آئی سے منسوب ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پولیس اور متعلقہ حکام کے مؤقف کا انتظار
پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کے واقعات اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق دعووں پر متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف اہم ہوگا۔ فی الحال ان دعووں، مبینہ واقعات اور بازیابی کی صورتِ حال سے متعلق مزید مصدقہ معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
صوبائی صدر جنیداکبر خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمدسہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا۔
— Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) October 11, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: سہیل آفریدی کی گرفتاری کے بارے میں کیا دعویٰ کیا گیا؟
جواب: میڈیا کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے سوشل میڈیا پر سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔ آزادانہ تصدیق اور سرکاری مؤقف ضروری ہے۔
سوال 2: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے کتنے ارکان اسمبلی کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ ہے؟
جواب: میڈیا کے مطابق پی ٹی آئی نے 10 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے مبینہ طور پر اٹھائے جانے کا دعویٰ کیا۔
سوال 3: پی ٹی آئی کے مبینہ طور پر لاپتہ ارکان کے معاملے پر حکومت کا کیا مؤقف ہے؟
جواب: خیبرپختونخوا حکومت کے معاون خصوصی طارق سعید نے ان واقعات کو مبینہ اغوا اور غیر قانونی حراست قرار دیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرنے کا بتایا۔
سوال 4: کیا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی سرکاری تصدیق ہو چکی ہے؟
جواب: فراہم کردہ معلومات میں گرفتاری کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف موجود نہیں، اس لیے خبر میں اسے دعوے کے طور پر بیان کرنا چاہیے۔



