اقرار الحسن کی مبینہ گرفتاری، اہل خانہ پریشان فوری رہائی کی اپیل

اقرار الحسن کی مبینہ گرفتاری کے بعد اہل خانہ کی رہائی کے لیے اپیل

اقرار الحسن کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد ان کے اہل خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی حکام سے معاملے کا نوٹس لینے اور ان کی بحفاظت واپسی کی اپیل

اہل خانہ کے مطابق معروف ٹی وی میزبان اور عوام راج پارٹی کے رہنما اقرار الحسن کو رات گئے لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لے جایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد اقرار الحسن کی اہلیہ فرح یوسف نے بتایا کہ اہل خانہ سو رہے تھے کہ رات کے وقت گھر میں شور شرابا شروع ہوگیا اور کچھ افراد اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق اہل خانہ کو اس بات پر تشویش ہے کہ انہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے اور اس کارروائی کی وجوہات کیا ہیں۔

تاہم متعلقہ ادارے کی جانب سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق اور اس کی وجوہات سے متعلق واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔ اس لیے واقعے کے قانونی پس منظر اور اقرار الحسن کی موجودہ صورتحال کے بارے میں حتمی معلومات کا انتظار ہے۔

فرح یوسف کی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے اپیل

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح یوسف نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں رات کے وقت گھر سے لے جایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے شخص کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ کیوں اختیار کیا گیا جس نے اپنی صحافتی سرگرمیوں کے دوران فراڈ اور مختلف مافیاز کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کیا۔

فرح یوسف نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، اقرار الحسن کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں اور پریشان حال خاندان کی مدد کریں۔

ان کے بیان کے مطابق اہل خانہ کو اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خاندان کی جانب سے ان کی موجودہ جگہ اور حراست کی وجوہات جاننے کی کوششیں بھی کی گئیں۔

بیٹے پہلاج کی سوشل میڈیا پر اپیل

اقرار الحسن کے بیٹے پہلاج نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر والد کی فوری رہائی کے لیے دعاؤں کی درخواست کی ہے۔

پہلاج نے اپنے پیغام میں والد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ان کی اپیل کے بعد اقرار الحسن کے اہل خانہ کی پریشانی اور ان کی رہائی کا معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

خاندان کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں اقرار الحسن کی بحفاظت واپسی اور ان کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

گرفتاری کی وجوہات تاحال واضح نہیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں واقع رہائش گاہ سے رات گئے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ بعض رپورٹس میں کارروائی کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں کی موجودگی کا ذکر بھی کیا گیا ہے، تاہم ادارے نے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔

تاحال دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کہ اقرار الحسن کو کس مقدمے کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا یا ان کے خلاف کیا قانونی کارروائی زیر غور ہے۔ اس معاملے پر متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ واقعے کی مکمل صورتحال واضح ہوسکے۔

اہل خانہ کو اقرار الحسن کی خیریت کا انتظار

اقرار الحسن کی مبینہ گرفتاری کے بعد اہل خانہ کی جانب سے ان کی خیریت، موجودہ مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کی اہلیہ اور بیٹے کی اپیلوں سے خاندان کی تشویش سامنے آئی ہے۔

اس معاملے میں اب اہم سوالات یہ ہیں کہ اقرار الحسن کو کس ادارے نے حراست میں لیا، اس کارروائی کی قانونی بنیاد کیا ہے اور انہیں کب اہل خانہ یا وکلا سے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

READ MORE FAQS

سوال: اقرار الحسن کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

جواب: اہل خانہ کے مطابق اقرار الحسن کو رات گئے لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لے جایا گیا۔

سوال: اقرار الحسن کی اہلیہ فرح یوسف نے کیا اپیل کی؟

جواب: انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے اور اقرار الحسن کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔

سوال: اقرار الحسن کے بیٹے پہلاج نے کیا کہا؟

جواب: پہلاج نے انسٹاگرام پر والد کی فوری رہائی کے لیے دعاؤں کی درخواست کی اور کہا کہ ان کے والد کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

سوال: اقرار الحسن کو کس ادارے نے حراست میں لیا؟

جواب: بعض میڈیا رپورٹس میں این سی سی آئی اے کے اہلکاروں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ادارے کی جانب سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:47 AM
طلوع آفتاب06:10 AM
ظہر11:54 AM
عصر03:10 PM
مغرب05:39 PM
عشاء07:02 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6