لائبہ اعجاز کیس میں مبینہ ویزا فراڈ، پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے جعلی شناختیں بنائیں
لائبہ اعجاز کیس میں پولیس ذرائع کی جانب سے مبینہ ویزا فراڈ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نعمان نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف شناختیں اختیار کیں اور لائبہ سے امریکی ویزے کے حصول کے حوالے سے رابطہ رکھا۔ پولیس کے مطابق جعلی دستاویزات سامنے آنے کے بعد معاملے کی نوعیت واضح ہوئی، جبکہ اب ملزم کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور ممکنہ دیگر متاثرین کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق لائبہ نے امریکی ویزے کے حصول میں مدد کی امید پر ملزم سے رابطہ رکھا تھا۔ تاہم، پولیس ذرائع کے دعووں کے مطابق اسے فراہم کی جانے والی دستاویزات بعد میں جعلی نکلیں۔
لائبہ اور ملزم نعمان کا رابطہ کیسے ہوا؟
پولیس ذرائع کے مطابق لائبہ اور نعمان کا ابتدائی رابطہ مارچ 2023 میں ہوا، جب لائبہ نے ایک انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کے لیے درخواست دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان کو عملے کی ضرورت تھی اور اسی سلسلے میں اس نے لائبہ سے رابطہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق لائبہ نے نعمان سے ملاقات بھی کی، تاہم ٹیوشن پڑھانے کی مصروفیت کے باعث وہ دفتر میں ملازمت شروع نہ کرسکی۔ بعدازاں اسے، اس کی بہن اور والدہ کو ٹک شاپ کی تشہیری سرگرمیوں سے متعلق کام دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق عائزہ نامی ایک لڑکی ٹک شاپ کا انتظام سنبھالتی تھی اور لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو کام فراہم کرتی تھی۔ اسی دوران امریکی ویزے سے متعلق معاملہ سامنے آیا۔
امریکی ویزے کے نام پر مبینہ دھوکا دہی
ذرائع کے مطابق عائزہ کا بھائی امریکا میں مقیم تھا اور لائبہ نے نعمان سے عائزہ کے بھائی کے ذریعے امریکی ویزے کے حصول میں مدد کی درخواست کی۔
پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نعمان نے مبینہ طور پر عائزہ کے نام سے ایک اور اکاؤنٹ بنایا اور اسی شناخت کے ذریعے لائبہ سے بات چیت شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق اس نے عائزہ کے بھائی کی شناخت بھی اختیار کی اور لائبہ کو مختلف دستاویزات فراہم کیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال مختلف کرداروں کے طور پر رابطہ کرنے اور گفتگو تیار کرنے کے لیے کیا گیا۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ مبینہ طور پر تیار کی گئی ہر دستاویز یا پیغام میں اس ٹیکنالوجی کا کیا کردار تھا۔ اس حوالے سے حتمی نتائج کے لیے ڈیجیٹل شواہد اور تفتیشی معلومات ضروری ہیں۔
جعلی دستاویزات سامنے آنے پر لائبہ کو شک ہوا
پولیس ذرائع کے مطابق لائبہ کو امریکی ویزے کے انٹرویو کے لیے مختلف تاریخیں بتائی گئیں۔ ابتدا میں یکم ستمبر، اس کے بعد 17 ستمبر اور پھر 26 ستمبر کی تاریخ کا ذکر کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تاریخوں میں تبدیلی اور دیگر حالات کے باعث لائبہ کو معاملے پر شک ہوا۔ اس نے فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ کی تو مبینہ طور پر وہ جعلی نکلیں۔
اس انکشاف کے بعد لائبہ نے ملزم سے رقم اور زیورات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس معاملے میں مالی نقصان اور خاندان کی جانب سے زیورات واپس کرنے کا دباؤ بھی اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
21 لاکھ روپے اور زیورات کا معاملہ
پولیس ذرائع کے مطابق لائبہ نے اپنے والد سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 21 لاکھ روپے ایک پلاٹ فروخت کرکے حاصل کیے تھے، جبکہ اس نے اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی ملزم کو دیے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ پر زیورات واپس کرنے کا دباؤ تھا اور اس نے نعمان سے کہا تھا کہ باقی رقم کے بارے میں بعد میں بات ہوگی، پہلے زیورات واپس کردیے جائیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق بعدازاں ملزم نے لائبہ کو نظرانداز کرنا شروع کردیا اور اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ ان حالات کے بعد لائبہ کی خودکشی کا واقعہ پیش آیا۔
یہ تفصیلات پولیس ذرائع سے منسوب ہیں۔ رقم کی منتقلی، زیورات کی حوالگی اور دیگر مالی معاملات کی حتمی تصدیق متعلقہ ریکارڈ اور تحقیقات سے ہی ہوسکتی ہے۔
ملزم کے ماضی سے متعلق پولیس ذرائع کے دعوے
پولیس ذرائع کے مطابق نعمان 2022 تک تقریباً 15 سال محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازم رہا، تاہم غیرحاضری کی بنیاد پر اسے ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں بطور منیجر کام کرتا رہا اور 2025 میں بلیو ایریا میں واقع ایک انشورنس کمپنی سے وابستہ ہوا۔
ان معلومات کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ ملازمت کے ریکارڈ یا سرکاری دستاویزات درکار ہیں۔ اس لیے انہیں پولیس ذرائع سے منسوب معلومات کے طور پر ہی بیان کرنا مناسب ہے۔
کیا مزید خواتین بھی مبینہ فراڈ کا شکار ہوئیں؟
پولیس ذرائع کو شبہ ہے کہ ملزم نے دیگر خواتین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی دھوکا دہی کی ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری میں تاخیر کے دوران ملزم کے موبائل فون سے ڈیٹا حذف کیے جانے کا خدشہ ہے۔
پولیس کے مطابق موبائل فون کا فارنزک تجزیہ کروا کر ڈیٹا بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ رابطوں، پیغامات اور ممکنہ دیگر متاثرین سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں۔
تاہم، مزید متاثرین کی موجودگی فی الحال ایک تفتیشی شبہ ہے۔ اس بارے میں کسی حتمی نتیجے کے لیے فارنزک رپورٹ اور دیگر شواہد سامنے آنا ضروری ہیں۔
یہ کیس مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور ڈیجیٹل شناخت کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی ٹولز تحریر، معلومات کی ترتیب اور گفتگو تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن ان کا استعمال کسی شخص کی شناخت یا دستاویزات کی اصلیت کا خودکار ثبوت نہیں ہوتا۔
آن لائن رابطوں کے ذریعے ویزے، ملازمت یا بیرون ملک جانے کی ضمانت دینے والے افراد کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ کسی بھی شخص کو رقم دینے سے پہلے متعلقہ ادارے، درخواست کے طریقہ کار اور دستاویزات کی اصلیت براہ راست مستند ذرائع سے جانچنی چاہیے۔
کسی اکاؤنٹ پر نام، تصویر یا ذاتی تفصیلات موجود ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے متعلقہ شخص ہی چلا رہا ہے۔ اسی طرح، کسی دستاویز پر سرکاری لوگو یا بظاہر درست معلومات موجود ہونے کے باوجود اس کی تصدیق متعلقہ ادارے سے کرنا ضروری ہے۔
READ MORE FAQS
سوال 1: لائبہ اعجاز کیس کیا ہے؟
جواب: فراہم کردہ خبر کے مطابق یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں لائبہ اعجاز کی خودکشی کے پس منظر میں مبینہ ویزا فراڈ اور مالی نقصان سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سوال 2: پولیس ذرائع کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیسے کیا گیا؟
جواب: پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر مختلف شناختوں کے ذریعے گفتگو کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا۔ اس دعوے کی تفصیلی تصدیق کے لیے تفتیشی اور ڈیجیٹل شواہد ضروری ہیں۔
سوال 3: لائبہ کو کتنی رقم کا نقصان ہونے کا دعویٰ ہے؟
جواب: پولیس ذرائع کے مطابق 21 لاکھ روپے اور سوتیلی والدہ کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مالی لین دین کی حتمی تفصیلات کی تصدیق متعلقہ شواہد سے ہونا ضروری ہے۔
سوال 4: کیا ملزم نے دوسری خواتین کے ساتھ بھی فراڈ کیا؟
جواب: پولیس ذرائع کو مزید خواتین کے ممکنہ متاثر ہونے کا شبہ ہے، لیکن فراہم کردہ معلومات میں اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔






