گورنر کے پی: ترقیاتی منصوبوں پر قربانی دے سکتے ہیں، سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں پر قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورت حال، دہشت گردی کے خاتمے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امن و امان کی بہتری اور پولیس سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امن و امان کے لیے تمام ادارے متحد ہیں، فیصل کریم کنڈی
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا اور پولیس و کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ضروریات پوری کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیحات میں امن و امان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نتائج واضح طور پر سامنے آنے چاہییں تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
امن ہوگا تو صوبے کے وسائل سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم امن و امان کی بہتر صورت حال کے بغیر ان وسائل اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا مشکل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ امن قائم ہونے سے نہ صرف عوام کو بہتر ماحول میسر آئے گا بلکہ ترقیاتی سرگرمیوں، معاشی مواقع اور خوشحالی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔
پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنا ضروری ہے، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان تعاون کی صورت حال اہم ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام دہشت گردی سے نجات اور امن کے خواہاں ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پولیس کو درکار جدید اسلحے کی فراہمی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم کیے جانے چاہییں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل شہادتیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی قیادت اور وفاقی حکومت کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
وفاقی حکومت امن کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے میں تعاون کیا جائے گا۔
انہوں نے سیاسی اختلافات کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور پرامن رہنے والے شہریوں کو سراہا۔
دہشت گردی کا خاتمہ اور پائیدار امن بنیادی اہداف
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سکیورٹی اداروں کی استعداد کار، پولیس اور سی ٹی ڈی کی ضروریات اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال زیر بحث رہی۔ اجلاس میں سامنے آنے والے مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسائل کی فراہمی اور امن و امان کی بحالی پر توجہ اہم ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ ترقیاتی سرگرمیوں کے مقابلے میں سکیورٹی کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبائی پولیس اور دیگر اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
READ MORE FAQS
سوال 1: فیصل کریم کنڈی نے سکیورٹی سے متعلق کیا کہا؟
جواب: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
سوال 2: ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کن امور پر بات ہوئی؟
جواب: اجلاس میں امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سوال 3: محسن نقوی نے خیبرپختونخوا پولیس کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو مضبوط بنانے اور اسے درکار جدید اسلحہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال 4: خیبرپختونخوا میں امن و امان کیوں اہم ہے؟
جواب: امن و امان کی بہتر صورت حال عوام کے تحفظ، معاشی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہم ہے۔






