آسان ٹیکس سکیم جرمانہ: تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں کو مزید 25 ہزار روپے دینا ہوں گے
اسلام آباد: چھوٹے دکاندار اور تاجر جو اب تک ٹیکس رجسٹریشن کو ٹالتے آ رہے ہیں، ان کے لیے آسان ٹیکس سکیم جرمانہ ایک سنجیدہ یاد دہانی بن کر سامنے آیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق 15 اکتوبر کے بعد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں کو رجسٹریشن کی مد میں 25 ہزار روپے کے ساتھ جرمانے کے طور پر مزید 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ یعنی تاخیر کی صورت میں مجموعی رقم 50 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تفصیل ذرائع کے حوالے سے ہے، اس لیے حتمی اور تازہ ترین صورتحال کے لیے ایف بی آر کے سرکاری نوٹیفکیشن کو دیکھ لینا مناسب رہے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جو تاجر مقررہ تاریخ تک رجسٹریشن اور ریٹرن مکمل نہیں کر سکیں گے، انہیں مکمل طور پر دروازہ بند نہیں ملے گا۔ ان کے لیے تاریخ میں توسیع دی جائے گی، مگر اس رعایت کے ساتھ جرمانہ جڑا ہوگا۔ گویا ایف بی آر کا پیغام یہ ہے کہ دیر سے آنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ ایسی پالیسی عموماً اس لیے اپنائی جاتی ہے کہ لوگ آخری لمحے تک انتظار کرنے کے بجائے بروقت قدم اٹھائیں۔
اس سکیم کا بنیادی مقصد چھوٹے کاروباری طبقے کو، جو بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر رہا ہے، ایک آسان راستے سے رجسٹریشن کی طرف لانا ہے۔ پہلے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں کے لیے ایک صفحے کا سادہ ریٹرن فارم متعارف کرایا تھا، جس میں کاروبار کا نام، پتہ، شناختی کارڈ نمبر اور کاروبار کی نوعیت درج کرنا ہوتی ہے۔ خیال یہ تھا کہ جب کاغذی کارروائی کم ہوگی تو دکاندار ٹیکس سسٹم سے گھبرائیں گے نہیں۔ مگر موجودہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ عملی نتائج توقع کے مطابق نہیں نکلے۔
ذرائع کے مطابق آسان ٹیکس سکیم کے تحت تاجروں کی رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کی شرح توقعات سے کم رہی ہے۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ سرتوڑ کوششوں کے باوجود 150 سے بھی کم نئے گوشوارے جمع ہو سکے، جس کی وجہ سے سکیم پر عمل درآمد میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر مملکت برائے خزانہ نے بھی رجسٹریشن اور گوشواروں کی اس کم تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ جب کسی پالیسی پر حکومت کے اپنے ذمہ دار بھی فکرمند ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ محض معمولی سست روی کا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ تاجر آگے کیوں نہیں آ رہے۔ اس بارے میں ایف بی آر نے کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی، تاہم تاجر تنظیموں کے مطالبات سے کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ ملتان کی ایک تاجر تنظیم نے پہلے 25 ہزار روپے کی رجسٹریشن فیس یا ابتدائی کم از کم ٹیکس کو چھوٹے تاجروں کے لیے مشکل قرار دیتے ہوئے اسے کم کرکے 5 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک تنظیم کی رائے تمام تاجروں کی نمائندگی نہیں کرتی، لیکن جس دکاندار کی روزانہ بکری محدود ہو، اس کے لیے اتنی رقم یکمشت دینا واقعی سوچنے کی بات ہو سکتی ہے۔ ایسے میں جرمانے کا اضافی بوجھ ان لوگوں کے لیے مزید دباؤ پیدا کر سکتا ہے جو پہلے ہی ہچکچا رہے ہیں۔
دوسری طرف ملک بھر کے مجموعی گوشواروں کی تصویر نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مالی سال 2026 کے لیے اب تک تقریباً 66 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ 30 ستمبر 2026 تک یہ تعداد 58 لاکھ تھی۔ اس حساب سے چند دنوں میں لگ بھگ 8 لاکھ گوشوارے مزید آئے۔ یہ رجحان نیا نہیں، ہمارے ہاں اکثر لوگ آخری تاریخ قریب آنے پر ہی ریٹرن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ البتہ ان اعداد کی سرکاری تصدیق ایف بی آر کے اپنے اعلان سے ہی ممکن ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ذرائع نے ایک نسبتاً اطمینان بخش بات بھی بتائی ہے۔ جن افراد کی آمدن کا واحد ذریعہ تنخواہ ہے، انہیں ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی کے لیے نوٹس نہیں بھیجا جائے گا۔ تاہم جن لوگوں کی تنخواہ کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی آمدن ہے، مثلاً کرایہ، کمیشن یا کوئی ذاتی کاروبار، ان سے قابلِ ایڈجسٹ ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے۔ قابلِ ایڈجسٹ کا مطلب یہ ہے کہ یہ رقم بعد میں سالانہ ٹیکس کی ذمہ داری میں شمار کی جا سکتی ہے، تاہم اپنی مخصوص صورتحال کے مطابق کسی ٹیکس مشیر سے پوچھ لینا بہتر ہے۔
ان تاجروں کے لیے جو ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئے، سب سے سمجھداری کا راستہ یہ ہے کہ وہ تاخیر کا انتظار نہ کریں۔ سب سے پہلے ایف بی آر کی ویب سائٹ یا ہیلپ لائن سے آخری تاریخ اور جرمانے کی تازہ تفصیل کی تصدیق کر لیں۔ اس کے بعد شناختی کارڈ، دکان کا پتہ اور سال بھر کی خرید و فروخت کا موٹا موٹا ریکارڈ ایک جگہ جمع کر لیں، کیونکہ ایک صفحے کے فارم میں بھی انہی معلومات کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آن لائن رجسٹریشن میں کوئی تکنیکی مشکل پیش آئے تو ایف بی آر سے براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ادارہ پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ چھوٹے دکانداروں کی اسکیم میں آنے والی مشکلات پر رہنمائی اور معاونت فراہم کی جائے گی۔ جو لوگ اکیلے یہ کام نہیں کر پا رہے، وہ اپنی مارکیٹ کی تاجر یونین یا کسی مستند ٹیکس مشیر سے مدد لے سکتے ہیں۔
حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد کا مسئلہ بھی اس پوری بحث کا حصہ ہے۔ ایف بی آر کا موقف بظاہر یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ وسیع ہونا چاہیے اور اس کے لیے سختی اور ترغیب دونوں ضروری ہیں۔ جرمانہ سختی کا پہلو ہے، جبکہ آسان فارم اور رہنمائی ترغیب کا۔ دوسری جانب تاجر حلقوں کا عموماً مطالبہ رہا ہے کہ نظام سادہ ہو، ادائیگیاں قابلِ برداشت ہوں اور بلاوجہ نوٹسوں کا خوف نہ ہو۔ جب تک یہ دونوں باتیں متوازن نہیں ہوتیں، کسی بھی سکیم کے لیے پوری کامیابی حاصل کرنا مشکل رہتا ہے۔ اگر جرمانے کے باوجود رجسٹریشن کی رفتار سست رہی تو ممکن ہے کہ شرائط پر نظرثانی کی بات دوبارہ اٹھے، لیکن فی الحال اس بارے میں کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
مختصراً، آسان ٹیکس سکیم جرمانہ کا فیصلہ ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو وقت پر رجسٹر ہونے کا واضح اشارہ ہے۔ ذرائع کے مطابق 15 اکتوبر کے بعد اضافی 25 ہزار روپے کا بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ سکیم میں اب تک شرکت توقع سے بہت کم رہی ہے۔ جو تاجر اس زمرے میں آتے ہیں، ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ سرکاری معلومات کی تصدیق کر کے آخری تاریخ سے پہلے اپنی رجسٹریشن اور ریٹرن مکمل کر لیں تاکہ غیر ضروری مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔


Read more FAQs
1. آسان ٹیکس سکیم جرمانہ کتنا ہے؟
ذرائع کے مطابق 15 اکتوبر کے بعد گوشوارے جمع کرانے پر رجسٹریشن کے 25 ہزار روپے کے ساتھ مزید 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
2. کیا 15 اکتوبر کے بعد بھی رجسٹریشن ممکن ہے؟
جی ہاں، ذرائع کے مطابق جرمانے کے ساتھ تاریخ میں توسیع دی جائے گی۔
3. اس سکیم میں اب تک کتنے نئے گوشوارے جمع ہوئے؟
ذرائع کے مطابق 150 سے بھی کم۔
4. ملک بھر میں کل کتنے گوشوارے جمع ہو چکے ہیں؟
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026 کے لیے تقریباً 66 لاکھ، جبکہ 30 ستمبر تک 58 لاکھ تھے۔
5. کیا تنخواہ دار افراد کو ایڈوانس ٹیکس کا نوٹس ملے گا؟
جن کی آمدن صرف تنخواہ ہے، انہیں نہیں۔ دیگر آمدن رکھنے والوں سے قابلِ ایڈجسٹ ایڈوانس ٹیکس لیا جا سکتا ہے۔
6. رجسٹریشن میں مشکل ہو تو کہاں رابطہ کریں؟
ایف بی آر کی ہیلپ لائن یا متعلقہ دفتر سے، یا کسی مستند ٹیکس مشیر سے۔




