قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا ایمرجنسی کی قرارداد، اعظم نذیر تارڑ کا اہم بیان
قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش کر دی گئی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے ایوان میں قرارداد پیش کی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین پاکستان کے مطابق قرار دیتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس سے قبل سپیکر اور اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ مشاورتی اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے اراکین شریک ہوئے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد وقفہ سوالات کی کارروائی معطل کر دی گئی۔ اپوزیشن نے اس تحریک کی مخالفت کی۔
بعد ازاں طارق فضل چودھری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد ایوان میں پیش کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے حکومتی مؤقف پیش کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اندرونی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کے تناظر میں ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں تقریباً ڈھائی گھنٹے بحث کے بعد صوبے میں ایمرجنسی کی تجویز پیش کی گئی۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین پاکستان کے مطابق ہے اور ریاست کی سلامتی، اتحاد اور عوام کی فلاح کیلئے آئینی اختیارات استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آئین مختلف حالات سے نمٹنے کیلئے واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جبکہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے پر تشویش رکھتی ہے۔ انہوں نے غیر معمولی حالات سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔
وزیر قانون نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے سکیورٹی صورتحال اور فورسز و عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کیا۔ ان کے بقول صوبے میں امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے اسلام آباد کی جانب سیاسی پیش قدمی کو ترجیح دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیاسی معاملات کو ترجیح دی۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت کیلئے ریاستی مفادات سیاست سے زیادہ اہم ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے سامنے ایسے مطالبات بھی رکھے گئے جو ان کے بقول انتظامیہ کے اختیار میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شخص کی رہائی کا فیصلہ عدالت کا اختیار ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے وقت اور جیل میں سہولتوں سے متعلق مطالبات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستی مفادات کو سیاسی معاملات پر ترجیح دیتی ہے۔
وزیر قانون کی تقریر کے دوران اعظم نذیر تارڑ اور شفقت عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے شفقت عباس کو خاموش رہنے کا کہا۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنر طویل عرصے سے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے دہشت گردی کے خلاف طرزِ عمل کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے بعد اس کی توثیق اور آئینی طریقہ کار سے متعلق کارروائی کی تفصیلات اہم ہوں گی۔ اس خبر میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حکومتی مؤقف وزیر قانون کے بیان کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔
READ MORE FAQS
سوال 1: قومی اسمبلی میں کون سی قرارداد پیش کی گئی؟
جواب: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے پیش کی۔
سوال 2: اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے نفاذ کی کیا وجہ بتائی؟
جواب: وزیر قانون کے مطابق صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشت گردی اور سرحد پار دراندازی ایمرجنسی کے فیصلے کی وجوہات میں شامل ہیں۔
سوال 3: کیا قومی اسمبلی نے قرارداد کی توثیق کر دی؟
جواب: فراہم کردہ خبر میں قرارداد پیش کیے جانے کی تفصیل موجود ہے، تاہم اس کی منظوری یا توثیق کا حتمی نتیجہ بیان نہیں کیا گیا۔
سوال 4: قومی اسمبلی کا اجلاس کس کی صدارت میں ہوا؟
جواب: قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔








