وزیراعظم کی قیمتی پتھروں کیلئے ’’برانڈ پاکستان‘‘ کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف کی قیمتی پتھروں کیلئے برانڈ پاکستان متعارف کروانے کی ہدایت

پاکستان کے قیمتی پتھروں کو عالمی شناخت دلانے کا فیصلہ، ’’برانڈ پاکستان‘‘ پر کام کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے قیمتی پتھروں اور جواہرات کو عالمی منڈی میں متعارف کروانے اور برآمدات بڑھانے کیلئے ’’برانڈ پاکستان‘‘ پر کام کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم نے شعبے کی ترقی، جدید کان کنی، پتھروں کی تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا جامع لائحہ عمل آئندہ ہفتے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جاری منصوبوں، پالیسی اقدامات اور شعبے کی برآمدی صلاحیت بہتر بنانے کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات میں تعطل پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترجیحی بنیادوں پر واضح مدت کے ساتھ جامع لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سست روی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کان کنی سے لے کر پتھروں کی تراش خراش، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات تک ایک مکمل نظام تیار کیا جائے تاکہ پاکستان کے قدرتی وسائل سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کیلئے خطے کے دیگر ممالک کی طرز پر ’’برانڈ پاکستان‘‘ متعارف کروانے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی قیمتی پتھروں کی شناخت کو فروغ دینا اور عالمی منڈی میں ان کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم غیر معیاری طریقوں سے کان کنی اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کے باعث ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات بڑھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور اس شعبے میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے۔

اجلاس میں قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کیلئے تیاری سے متعلق پائلٹ پراجیکٹ پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے منصوبے کیلئے 4.8 کنال زمین منتقل کی جا چکی ہے، جبکہ منصوبے کیلئے فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے گا۔

آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کیلئے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اسلام آباد میں مستقل مرکز کی تعمیر مکمل ہونے تک اسے متبادل مقام پر مکمل طور پر فعال کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور شعبے کی ترقی سے متعلق اقدامات کا جامع لائحہ عمل آئندہ ہفتے پیش کیا جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات سے متعلق نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولوجیکل میپنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ اس عمل کے دوران گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کے حوالے سے مزید کام کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے پائلٹ پراجیکٹس اور قیمتی پتھروں کی ماڈل مائنز کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

بریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی کیلئے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

برآمد کنندگان کی سہولت کیلئے سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد برآمدی عمل میں سہولت فراہم کرنا اور متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستان کے قدرتی وسائل کو عالمی منڈی میں بہتر شناخت دلانے اور برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

READ MORE FAQS

سوال 1: وزیراعظم نے ’’برانڈ پاکستان‘‘ سے متعلق کیا ہدایت دی؟

جواب: وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کیلئے ’’برانڈ پاکستان‘‘ پر کام کرنے کی ہدایت کی تاکہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں بہتر شناخت مل سکے۔

سوال 2: قیمتی پتھروں کے شعبے کیلئے کتنی رقم مختص کی گئی؟

جواب: اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق رواں سال شعبے کی ترقی کیلئے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سوال 3: اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کہاں قائم ہوگا؟

جواب: حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے منصوبے کیلئے 4.8 کنال زمین منتقل کی جا چکی ہے اور تعمیر جلد شروع کرنے کا بتایا گیا ہے۔

سوال 4: قیمتی پتھروں کے نئے بلاکس کہاں دریافت کیے جائیں گے؟

جواب: بریفنگ کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کیلئے مزید کام کیا جائے گا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:49 AM
طلوع آفتاب06:12 AM
ظہر11:54 AM
عصر03:08 PM
مغرب05:36 PM
عشاء06:59 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6