روسی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سیکیورٹی تعاون پر زور
راولپنڈی: روسی فیڈریشن کے وزیر داخلہ ولادی میر کولوکولٹسف نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں جانب سے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور روس کے سیکیورٹی اداروں کے درمیان قریبی ادارہ جاتی روابط اور بہتر ہم آہنگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں، بالخصوص سیکیورٹی کے میدان میں ٹھوس تعاون کو وسعت دینے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کو مضبوط بنانے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملاقات کے دوران علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ روسی وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھی روس کے ساتھ مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
یہ ملاقات پاکستان اور روس کے درمیان سیکیورٹی روابط کو مزید مستحکم بنانے اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
READ MORE FAQS
سوال 1: روسی وزیر داخلہ نے پاکستان میں کس سے ملاقات کی؟
روسی وزیر داخلہ ولادی میر کولوکولٹسف نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
سوال 2: ملاقات میں کن امور پر بات چیت ہوئی؟
ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان سیکیورٹی تعاون، ادارہ جاتی روابط، علاقائی سیکیورٹی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سوال 3: پاکستان اور روس کے سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے کیا مؤقف سامنے آیا؟
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور سیکیورٹی سمیت مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سوال 4: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں کیا کہا گیا؟
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کا اعتراف کیا گیا۔






