’اچھے لوگ آج بھی موجود ہیں‘، نادیہ افغان نے ڈرامہ ’درِ نجات‘ کے کرداروں پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
**کراچی: پاکستانی اداکارہ نادیہ افغان نے ڈرامہ ’درِ نجات‘ کے کردار ابوبکر اور ان کی والدہ خوش بخت پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ دنیا میں اچھے، مہربان اور دوسروں کا خیال رکھنے والے لوگ آج بھی موجود ہیں۔
ڈان امیجز کی رپورٹ کے مطابق ڈرامے میں ابوبکر کا کردار شہریار منور جبکہ ان کی والدہ خوش بخت کا کردار ثانیہ سعید ادا کر رہی ہیں۔ دونوں کرداروں کو زریاب کے ساتھ غیر معمولی شفقت، صبر اور ہمدردی کا مظاہرہ کرتے دکھایا گیا ہے، جس پر بعض ناظرین کا کہنا ہے کہ حقیقی زندگی میں اتنے اچھے لوگ ملنا مشکل ہے۔

زریاب کا کردار درفشاں سلیم ادا کر رہی ہیں۔ کہانی میں ان کا ماضی شادی کے بعد بھی ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے، جبکہ ابوبکر اور ان کی والدہ ان کے ساتھ صبر اور محبت سے پیش آتے ہیں۔
نادیہ افغان نے انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ابوبکر اور ان کی والدہ جیسے لوگ حقیقت میں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اور سسرال والوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد وہ خود بھی ان کے اچھے رویے پر حیران رہ گئی تھیں۔
اداکارہ کے مطابق جب ان کی شادی ہوئی تو وہ بھی زریاب کی طرح حیران تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اور ان کے خاندان کو دنیا کے سب سے محبت کرنے والے، مہذب اور مہربان لوگوں میں شمار کیا اور کہا کہ وہ اپنی ساس سے اپنی والدہ جیسی محبت کرتی ہیں۔
نادیہ افغان نے بتایا کہ شادی کے ابتدائی دنوں میں انہوں نے اپنے شوہر سے پوچھا تھا کہ کیا ان کے گھر والے واقعی اتنے اچھے ہیں اور وہ آپس میں کبھی لڑتے کیوں نہیں؟ اداکارہ نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی پوچھا تھا کہ کہیں وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق تو نہیں۔
ان کے مطابق ان کے ذاتی تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اچھے انسان حقیقت میں موجود ہیں، اس لیے ڈرامے کے ان کرداروں کو محض غیر حقیقی قرار دینا درست نہیں۔
ڈرامہ ’درِ نجات‘ کی مصنفہ عمیرہ احمد بھی اس سے پہلے ان کرداروں کے بارے میں ناظرین کے ردعمل پر سوال اٹھا چکی ہیں۔

عمیرہ احمد کے مطابق بعض لوگوں نے ان کے تخلیق کردہ کرداروں کو حقیقت سے دور اور مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے کرداروں جیسا قرار دیا، گویا حقیقی زندگی میں ایسے لوگ موجود ہی نہیں ہو سکتے۔
مصنفہ نے سوال اٹھایا کہ معاشرے میں مہربانی، ہمدردی، معافی اور دوسروں کی خامیوں کو نظر انداز کرنے جیسی بنیادی انسانی خوبیاں کم ہوتی کیوں محسوس ہو رہی ہیں؟ ان کے مطابق جب یہی خوبیاں ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں تو بعض ناظرین انہیں غیر حقیقی سمجھنے لگتے ہیں۔
عمیرہ احمد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا معاشرہ بنیادی اخلاقی اقدار اور انسانیت کے معاملے میں زوال کا شکار ہو رہا ہے؟
نادیہ افغان اور عمیرہ احمد کے بیانات نے ڈرامے کے کرداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مہربانی، برداشت اور خاندانی تعلقات کی اہمیت پر بھی بحث کو اجاگر کیا ہے۔
ابوبکر اور خوش بخت کے کرداروں پر ہونے والا ردعمل اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ کیا مثبت اور ہمدرد کردار ناظرین کو غیر حقیقی محسوس ہوتے ہیں، یا ایسے کردار معاشرے میں اچھائی کی اہمیت یاد دلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
نادیہ افغان کا مؤقف ہے کہ اچھے لوگ حقیقت میں موجود ہیں، جبکہ عمیرہ احمد نے ناظرین کو یہ سوچنے کی دعوت دی ہے کہ اگر مہربانی اور ہمدردی غیر معمولی محسوس ہونے لگی ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟
READ MORE FAQS”
سوال 1: نادیہ افغان نے ڈرامہ درِ نجات کے کرداروں کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: نادیہ افغان نے کہا کہ ابوبکر اور ان کی والدہ خوش بخت جیسے اچھے، مہربان اور ہمدرد لوگ حقیقی زندگی میں بھی موجود ہیں۔
سوال 2: ڈرامہ درِ نجات میں ابوبکر کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟
جواب: ڈرامہ درِ نجات میں ابوبکر کا کردار اداکار شہریار منور ادا کر رہے ہیں۔
سوال 3: ڈرامہ درِ نجات میں خوش بخت کا کردار کس نے ادا کیا ہے؟
جواب: خوش بخت کا کردار معروف اداکارہ ثانیہ سعید ادا کر رہی ہیں۔
سوال 4: مصنفہ عمیرہ احمد نے ناظرین کے ردعمل پر کیا سوال اٹھایا؟
جواب: عمیرہ احمد نے سوال اٹھایا کہ مہربانی، ہمدردی، معافی اور دوسروں کی خامیوں کو نظر انداز کرنے جیسی بنیادی انسانی خوبیاں معاشرے میں کم کیوں محسوس ہو رہی ہیں اور ڈراموں میں دکھائے جانے پر انہیں غیر حقیقی کیوں سمجھا جاتا ہے۔





