شبیر احمد تنولی کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے متحرک، متعدد افراد کو نوٹسز جاری
اسلام آباد: تھانہ ترنول کے سابق ایس ایچ او انسپکٹر شبیر احمد تنولی کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ منفی اور ہتک آمیز مہم کے معاملے نے قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انسپکٹر شبیر احمد تنولی کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کارروائی شروع کرتے ہوئے متعدد افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بے بنیاد الزامات اور منفی مواد پھیلانے کے معاملے پر متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بعض افراد کے خلاف عدالتوں میں فی کس 10 کروڑ روپے ہرجانے کے دعوے بھی دائر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق متعلقہ حکام مبینہ سوشل میڈیا مہم میں شائع ہونے والے مواد اور اس میں کیے گئے دعوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم نوٹسز کی تعداد، متعلقہ افراد کی شناخت اور تحقیقات کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ ہرجانے کے دعوؤں پر عدالتوں میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ اس لیے معاملے کے حتمی قانونی نتائج کے بارے میں فی الحال کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
قانونی اصولوں کے مطابق آزادیٔ اظہار شہریوں کا بنیادی حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے دوران قابلِ اطلاق قوانین کی پابندی بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کے خلاف جھوٹے یا غیر ثابت شدہ الزامات کی اشاعت، اگر قانونی تقاضے پورے ہوں، تو ہتکِ عزت کی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب کسی الزام، نوٹس یا مقدمے کا سامنے آنا بذاتِ خود کسی شخص کے جرم یا قانونی ذمہ داری کو ثابت نہیں کرتا۔ ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور متعلقہ قانونی عمل کے مطابق جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
شبیر احمد تنولی کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم کے معاملے میں حتمی صورتِ حال تحقیقات، دستیاب شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
READ MORE FAQS”
سوال 1: شبیر احمد تنولی کون ہیں؟
شبیر احمد تنولی کو فراہم کردہ معلومات میں تھانہ ترنول کے سابق ایس ایچ او کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
سوال 2: این سی سی آئی اے نے کیا کارروائی کی؟
اطلاعات کے مطابق مبینہ سوشل میڈیا مہم کے معاملے میں متعدد افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ نوٹسز کی تعداد اور تفصیلات کی سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
سوال 3: ہرجانے کے دعوؤں میں کتنی رقم بتائی گئی ہے؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض افراد کے خلاف فی کس 10 کروڑ روپے ہرجانے کے دعوے دائر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ متعلقہ عدالتی ریکارڈ سے اس کی تصدیق کی جانی چاہیے۔
سوال 4: کیا نوٹس جاری ہونے سے کسی شخص کا قصور ثابت ہوجاتا ہے؟
نہیں۔ نوٹس یا ہرجانے کا دعویٰ بذاتِ خود کسی شخص کے قصور کا ثبوت نہیں ہوتا۔ معاملے کا فیصلہ متعلقہ قانونی کارروائی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
شبیر احمد تنولی کے خلاف مبینہ منفی سوشل میڈیا مہم کا معاملہ سنگین قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا۔ انسپکٹر شبیر احمد تنولی کی درخواست پر این سی سی آئی اے متحرک، متعدد افراد کو نوٹسز جاری جبکہ مبینہ طور پر منفی اور ہتک آمیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف عدالتوں میں 10,10 کروڑروپے کے ہرجانے کے دعوے بھی دائر کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کسی بھی شخص کے خلاف الزامات لگانا آسان ہے، مگر ہر الزام کے ساتھ ثبوت بھی ضروری ہیں۔ آزادیٔ اظہار اپنی جگہ اہم حق ہے، تاہم کسی کی ساکھ متاثر کرنے والی مبینہ غلط معلومات پر قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات میں کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور مبینہ مہم میں ملوث افراد اپنے الزامات کے حق میں کیا شواہد پیش کرتے ہیں۔ حتمی فیصلہ تحقیقات، ثبوت اور قانون کی روشنی میں ہی ہوگا۔
@NCCIAOFFICIAL @ICT_Police
— Shahnawaz Khan (@shahnawazk33) October 19, 2026





