بیرسٹر گوہر: دہشتگردی کے بہانے گورنر راج نافذ کیا گیا

بیرسٹر گوہر کا گورنر راج اور ایمرجنسی پر بیان

دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہیں، گورنر راج کا جواز نہیں: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے، تاہم ان کے بقول دہشتگردی کو جواز بنا کر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم دہشتگردی کی آڑ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ قابل اعتراض ہے۔

پشاور ہائیکورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف ریاست کا ساتھ دینے کے معاملے پر کوئی اختلاف نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی ایک ہی دن نافذ کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 12 ارکان قومی اسمبلی اور 13 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھایا گیا، جبکہ پارٹی دفاتر بھی گرائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تختیاں توڑی گئیں، پارٹی سے اس کا مینڈیٹ لیا گیا اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایک گروہ پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات بڑھانے کے بجائے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال سے معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست نہیں۔

عدالت میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔

انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں، اس لیے ان کے بقول خیبرپختونخوا میں یہی بنیاد بنا کر اقدامات کرنا درست نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی جماعت وفاق کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کر چکی ہے اور وہ اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے پارٹی قیادت کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

علیمہ خان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ غیر سیاسی ہیں اور پوچھا کہ انہیں کیوں اٹھایا گیا۔

یہ تمام مؤقف بیرسٹر گوہر کی جانب سے عدالت میں دلائل اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آئے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قانونی صورت حال اور دیگر فریقین کا مؤقف الگ سے سامنے آنا بھی اہم ہوگا

READ MORE FAQS

سوال 1: بیرسٹر گوہر نے گورنر راج کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردی کو جواز بنا کر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔

سوال 2: کیا پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف ریاست کا ساتھ دیتی ہے؟

بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہے اور دہشتگردی کا خاتمہ ضروری سمجھتی ہے۔

سوال 3: بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی ارکان کے بارے میں کیا دعویٰ کیا؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے 12 ارکان قومی اسمبلی اور 13 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھایا گیا، دفاتر گرائے گئے اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

سوال 4: بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے بارے میں کیا کہا؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:53 AM
طلوع آفتاب06:16 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:03 PM
مغرب05:29 PM
عشاء06:52 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6