اسلام آباد: لائبہ فراڈ کیس کا ملزم پولیس حراست میں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
لائبہ کیس کا ملزم نعمان اسلام آباد میں پولیس حراست کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہوگیا۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس ٹیم ملزم کو برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی کہ تھانہ رمنا کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے اسے چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے دوران ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے زخمی ہوا اور بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار ملزم نعمان کو اس کی نشاندہی پر برآمدگی کے لیے لے جا رہے تھے۔ اسی دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں زیر حراست ملزم نعمان زخمی ہوا۔ اسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔
پولیس کے مطابق اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات کے باعث محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق نعمان اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں لائبہ کے مبینہ خودکشی کیس سے متعلق مقدمے میں نامزد تھا۔ اس معاملے میں امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے حصول، یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر مبینہ مالی فراڈ کے الزامات سامنے آئے تھے۔
مقدمے سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق لائبہ اعجاز کو امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ اور اسکالرشپ دلوانے کے لیے جعلی دستاویزات فراہم کیے جانے کا الزام تھا۔ ان دستاویزات میں یونیورسٹی کے آفر لیٹرز، اسکالرشپ سے متعلق کاغذات اور فیس کی رسیدیں شامل بتائی گئی ہیں۔
ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور مقدمے کے تمام حقائق کا تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی سے ہوگا۔
ایف آئی آر کے مطابق لائبہ اعجاز سے امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے۔ الزام ہے کہ انہیں داخلے اور اسکالرشپ سے متعلق ایسی دستاویزات فراہم کی گئیں جن کی بنیاد پر وہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی امید رکھتی تھیں۔
بیرون ملک تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ، مالی معاونت اور ویزا حاصل کرنے کا عمل طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے اہم ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں کسی ایجنٹ یا فرد کو بڑی رقم دینے سے پہلے یونیورسٹی کے سرکاری ذرائع سے داخلے کی تصدیق، اسکالرشپ کی شرائط کا جائزہ اور ادائیگیوں کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
لائبہ کے معاملے میں سامنے آنے والے الزامات بیرون ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ کو نشانہ بنانے والے مبینہ فراڈ کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں۔ تاہم اس کیس میں ذمہ داری کا حتمی تعین شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
فراہم کردہ خبر کے مطابق لائبہ اعجاز نے 9 اکتوبر کو مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپ حاصل کرنے کی امیدیں پوری نہ ہونے، مبینہ مالی نقصان اور ذہنی اذیت کے تناظر میں یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔
اس نوعیت کے واقعات میں متاثرہ فرد کے حالات، دستیاب شواہد اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کی مکمل تفتیش ضروری ہوتی ہے۔ کسی واقعے کے محرکات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے متعلقہ حکام کی تحقیقات اور مستند معلومات کو سامنے رکھنا چاہیے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس ٹیم کے محفوظ رہنے اور ملزم کی اسپتال میں ہلاکت کے بعد تفتیش کا اہم پہلو مبینہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے کردار کا تعین ہوگا۔
حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر واقعے کی مکمل صورت حال واضح ہوسکے گی۔ ملزم کی ہلاکت کے باوجود لائبہ کیس میں مبینہ مالی فراڈ سے متعلق تحقیقات اور دیگر ذمہ دار افراد کے کردار کا تعین اہم رہے گا۔
READ MORE FAQS
- لائبہ کیس کا ملزم نعمان کیسے ہلاک ہوا؟
اسلام آباد پولیس کے مطابق برآمدگی کے لیے لے جاتے ہوئے پولیس ٹیم پر مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے دوران نعمان زخمی ہوا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔
- فائرنگ کا واقعہ کہاں پیش آیا؟
پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ اسلام آباد میں تھانہ رمنا کی حدود میں پیش آیا۔
- لائبہ کے ساتھ کتنے روپے کے فراڈ کا الزام ہے؟
ایف آئی آر کے مطابق امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے۔
- لائبہ کیس میں کون سی جعلی دستاویزات دینے کا الزام ہے؟
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جعلی اسکالرشپ دستاویزات، یونیورسٹی کے آفر لیٹرز اور فیس کی رسیدیں دینے کا الزام ہے۔






