مکہ دفاعی معاہدہ: ترک پارلیمنٹ میں توثیق کا بل پیش

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش ہونے پر ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے پرچم

مکہ دفاعی معاہدہ: ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں کئی اہم نکات شامل ہیں، جن میں اتحاد کی مستقل نوعیت، علیحدگی کی شرائط اور مشترکہ دفاع کی شق نمایاں ہیں۔ یہ تفصیلات ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں، اس لیے سرکاری متن جاری ہونے پر ان کی تصدیق ضروری ہوگی۔

ذرائع کے مطابق مسودے میں کہا گیا ہے کہ یہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا۔ کوئی بھی فریق ابتدائی 10 سال تک معاہدے سے الگ نہیں ہو سکے گا۔ دس سال گزرنے کے بعد کسی بھی ملک کو علیحدگی اختیار کرنے کے لیے کم از کم 3 ماہ پہلے تحریری نوٹس دینا ہوگا۔

معاہدے کی سب سے اہم شق یہ بتائی گئی ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب میں سے کسی بھی ایک ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق فریقین دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے۔

خفیہ معلومات اور قومی قوانین کی پابندی

ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھی جائے گی اور فریقین اس سلسلے میں اپنے قومی قوانین کی پابندی کریں گے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ ایسی معلومات اور دستاویزات فریقین کے سوا کسی بھی ریاست، کمپنی یا شخص کے ساتھ شیئر نہیں کی جائیں گی۔

اس شق کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی تعاون کے دوران حساس معلومات کو محفوظ رکھنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم خبر میں اس بات کی تفصیل شامل نہیں کہ معلومات کے تبادلے کا عملی طریقہ کار کیا ہوگا۔

توثیق کا مرحلہ اور آئندہ پیش رفت

بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے، تاہم خبر میں ووٹنگ کی تاریخ یا پارلیمانی کارروائی کے اگلے مراحل کا ذکر نہیں۔ اس لیے توثیق کب اور کس طرح مکمل ہوگی، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے توثیق کے مراحل سے متعلق بھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

معاہدے کے مکمل سرکاری متن، پارلیمانی کارروائی اور تینوں ممالک کے باضابطہ مؤقف سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

Read more FAQs

سوال 1: مکہ دفاعی معاہدہ کن ممالک کے درمیان ہے؟
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان۔

سوال 2: ترک پارلیمنٹ میں کیا پیش کیا گیا ہے؟
معاہدے کی توثیق کا بل پیش کیا گیا ہے۔

سوال 3: کیا کوئی ملک معاہدے سے الگ ہو سکتا ہے؟
ذرائع کے مطابق ابتدائی 10 سال تک نہیں، اس کے بعد کم از کم 3 ماہ قبل تحریری نوٹس دینا ہوگا۔

سوال 4: کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں کیا ہوگا؟
مسودے کے مطابق کسی بھی ایک ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

سوال 5: خفیہ معلومات کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟
یہ معلومات فریقین کے سوا کسی ریاست، کمپنی یا شخص سے شیئر نہیں کی جائیں گی۔

سوال 6: معاہدے میں تعاون کے کن شعبوں کا ذکر ہے؟
دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:54 AM
طلوع آفتاب06:17 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:02 PM
مغرب05:28 PM
عشاء06:51 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6