عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے، آئی ایس پی آر کا اظہارِ افسوس

عبدالوحید کاکڑ سابق آرمی چیف پاکستان کی یادگار تصویر

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میں انتقال کر گئے

عبدالوحید کاکڑ، جو پاکستان کے سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں، راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرأت کے حامل جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی عسکری اور سیاسی حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کی وفات پر پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے مرحوم جنرل کے انتقال پر دلی افسوس ظاہر کیا۔ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل اور فوج کے تمام رینکس نے مرحوم کی نمایاں عسکری خدمات، قیادت اور فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاک فوج اس غم کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ برابر کی شریک ہے اور اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ فوج کی جانب سے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر و استقامت دے۔ تاحال تدفین اور نمازِ جنازہ کی تفصیلات بیان میں شامل نہیں کی گئیں۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کا عسکری سفر

عبدالوحید کاکڑ کا تعلق پشاور سے تھا اور ان کی پیدائش 1937 میں ہوئی۔ ان کا خاندانی پس منظر کاکڑ قبیلے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے 1959 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے وابستہ رہے۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے کمان اور انتظامی، دونوں شعبوں میں تجربہ حاصل کیا۔ آرمی چیف بننے سے پہلے وہ کوئٹہ میں کور کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

جنوری 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے انہیں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔ یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی جب جنرل آصف نواز کے انتقال کے بعد فوج کی قیادت کا سوال سامنے تھا۔ اس تقرری کو اس لیے بھی اہم سمجھا گیا کہ ان کے مقابلے میں کئی سینئر جرنیل موجود تھے۔ جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک وہ فوج کے سربراہ رہے۔


ان کے دورِ قیادت کو عام طور پر ایک پیشہ ورانہ اور آئینی دائرے میں رہنے والے سپہ سالار کے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ دفاعی اور تاریخی تحریروں میں انہیں ایسے جنرل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو اصول پسندی اور وقار کے لیے جانے جاتے تھے۔

سیاسی بحران میں کردار اور تاریخی اہمیت

عبدالوحید کاکڑ کا نام ملکی تاریخ میں 1993 کے آئینی بحران کے حوالے سے خاص طور پر لیا جاتا ہے۔ اس وقت صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے، اسمبلی کی تحلیل اور اس کی بحالی کے معاملات نے ملک کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ اس نازک موقع پر جنرل کاکڑ نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور بالآخر صدر اور وزیرِ اعظم، دونوں کے مستعفی ہونے کا راستہ نکلا، جس کے بعد نئے عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔

اس وقت کئی حلقوں کی جانب سے یہ رائے بھی سامنے آئی تھی کہ فوج براہِ راست اقتدار سنبھال لے، مگر جنرل کاکڑ نے مارشل لا کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اسی فیصلے کی وجہ سے بہت سے مبصرین آج بھی انہیں جمہوری عمل کے تسلسل میں مثبت کردار ادا کرنے والے آرمی چیف کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

ان کے دور میں 1995 کے دوران فوج کے اندر سے ایک سازش کا انکشاف بھی ہوا، جسے بروقت ناکام بنایا گیا اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس واقعے کو بھی فوج کے ادارہ جاتی نظم و ضبط کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع قبول نہیں کی۔ جنوری 1996 میں وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے اور ان کی جگہ جنرل جہانگیر کرامت نے فوج کی کمان سنبھالی۔ پاکستان کی تاریخ میں، جہاں توسیع کا معاملہ بارہا زیرِ بحث رہا، ان کے اس فیصلے کو آج بھی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ملک کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرأت جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ اعزازات ان کی عسکری زندگی کی کامیابیوں اور پیشہ ورانہ خدمات کی عکاسی کرتے ہیں۔

عبدالوحید کاکڑ کے انتقال سے پاکستان نے ایک ایسے سابق سپہ سالار کو کھو دیا ہے جن کا نام ملکی تاریخ کے ایک نازک باب کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عسکری ماہرین، سابق فوجی افسران اور سیاسی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔

Read more FAQs

سوال 1: عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟
عبدالوحید کاکڑ پاکستان کے سابق آرمی چیف تھے جنہوں نے جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک فوج کی کمان کی۔

سوال 2: عبدالوحید کاکڑ کا انتقال کہاں ہوا؟
آئی ایس پی آر کے مطابق وہ راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔

سوال 3: انہیں کون سے اعزازات ملے؟
انہیں نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرأت سے نوازا گیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:58 AM
طلوع آفتاب06:21 AM
ظہر11:52 AM
عصر02:58 PM
مغرب05:22 PM
عشاء06:46 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6