علیمہ خان کی نظربندی میں توسیع: علیمہ، عظمیٰ اور نورین نیازی کی نظربندی 30 روز کے لیے بڑھا دی گئی
علیمہ خان کی نظربندی میں توسیع کی خبر لاہور ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران سامنے آئی، جہاں پنجاب حکومت نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں مزید 30 روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی سیکرٹری داخلہ پنجاب کی رپورٹ میں اس فیصلے کی تفصیل شامل تھی۔
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت اور سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے عمران خان کی بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل عدالت میں پیش ہوئے۔ سیکرٹری داخلہ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تینوں خواتین کی نظربندی کی مدت میں 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ حکام سے صورتحال کی وضاحت طلب کی۔
اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر 30 دن کے لیے نظربند کیا گیا، جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو اگلے روز یعنی 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا۔ ان کی نظربندی پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت کی گئی، جسے عام طور پر تھری ایم پی او کہا جاتا ہے۔ نظربندی کے احکامات میں انہیں امنِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کے احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال سے کچھ دن پہلے کیا گیا۔
اس نظربندی کو عدالت میں متعدد درخواستوں کے ذریعے چیلنج کیا گیا۔ درخواستیں علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان اور نورین نیازی کی بیٹی سکینہ نیازی کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر کے ذریعے دائر کی گئیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ نظربندی غیر قانونی ہے، اور ایک درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جس وقت علیمہ خان کو حراست میں لیا گیا اس وقت کوئی عوامی اجتماع یا ایسی صورتحال موجود نہیں تھی جس سے امنِ عامہ کو خطرہ ہو۔ ایک موقع پر وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پہلے گرفتاری عمل میں آئی اور نظربندی کا حکم بعد میں جاری ہوا۔
عدالتی کارروائی کے دوران 24 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی کے نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی اور متعلقہ فریقین سے جوابات طلب کیے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ فیصلہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔ بعد کی سماعتوں میں عدالت نے جیل میں ادویات، لباس اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی سے متعلق رپورٹس بھی طلب کیں۔ ایک سماعت میں عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ان کی تجویز کردہ دل کی دوا فراہم کی جائے۔
حکومت اور درخواست گزاروں کا مؤقف
پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ نظربندی امنِ عامہ کے قانون کے تحت کی گئی ہے اور اس کا مقصد صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ حکومتی وکلا عدالت کو یہ بھی بتا چکے ہیں کہ علیمہ خان کو جیل میں بنیادی سہولیات اور ضروری اشیاء فراہم کی گئی ہیں۔ اس مؤقف کے مطابق نظربندی کا فیصلہ انتظامی اختیارات کے دائرے میں آتا ہے اور اس کا جائزہ متعلقہ فورمز پر لیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی اور اہلِ خانہ اس اقدام کو سیاسی دباؤ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے الزام لگایا تھا کہ ان کی پھوپھیوں اور بعض کزنز کو گھروں سے اٹھایا گیا اور اہلِ خانہ کو وجوہات یا مقام کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے ایک نئی درخواست بھی دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 30 دن کی مدت ختم ہونے کے باوجود تینوں خواتین رہا نہیں کی گئیں۔ حالیہ توسیع کے بعد قانونی بحث اب اس نکتے کے گرد گھوم سکتی ہے کہ آیا توسیع کے اسباب اور طریقۂ کار قانون کے مطابق ہیں یا نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق تھری ایم پی او کے تحت نظربندی میں توسیع ممکن ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق مخصوص مدت سے زیادہ نظربندی کی صورت میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل ریویو بورڈ کے جائزے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے مقدمات میں عدالتیں عموماً یہ دیکھتی ہیں کہ نظربندی کے احکامات میں ٹھوس وجوہات درج ہیں یا نہیں، اور آیا قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں۔ اس لیے آئندہ سماعتوں میں سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ، توسیع کے احکامات اور درخواست گزاروں کے اعتراضات کلیدی حیثیت رکھیں گے۔
یہ معاملہ سیاسی لحاظ سے بھی حساس ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیاں اور حکومت کی امن و امان کی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے، جبکہ حزبِ اختلاف اسے سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔ ان متضاد بیانات کے درمیان عدالت ہی وہ فورم ہے جہاں قانونی پہلوؤں کا فیصلہ ہوگا۔
آنے والے دنوں میں لاہور ہائیکورٹ کی اگلی سماعت پر نظر رہے گی، جہاں عدالت توسیع کے احکامات اور بازیابی کی درخواست پر مزید کارروائی کر سکتی ہے
Read more FAQs
1. علیمہ خان کی نظربندی میں کتنی توسیع کی گئی ہے؟
سیکرٹری داخلہ پنجاب کی رپورٹ کے مطابق علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روز کی توسیع کی گئی ہے۔
2. یہ معاملہ کس عدالت میں زیرِ سماعت ہے؟
لاہور ہائیکورٹ میں، جہاں جسٹس عبہر گل خان درخواست کی سماعت کر رہی ہیں۔
3. نظربندی کس قانون کے تحت کی گئی؟
رپورٹس کے مطابق پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 (تھری ایم پی او) کے تحت۔






