مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: وفد کی تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک کا وفد تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کرتے ہوئے

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک کے وفد کی تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات، عاصم منیر اور خالد بن سلمان شریک

تہران: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ وفد میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق وفد نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقات کی، اور ایرانی حکام نے تہران آمد پر وفد کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں کن امور پر بات ہوئی، اس کی باضابطہ تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی گئیں، اس لیے اس بارے میں قیاس آرائی سے گریز بہتر ہے۔

اس ملاقات کی اہمیت اس کے سفارتی پس منظر سے سمجھ میں آتی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک کی ایرانی قیادت سے پہلی اعلیٰ سطحی مشترکہ ملاقات ہے، اور یہ اس کے بعد ہو رہی ہے جب سعودی عرب ایران سے متعلق وسیع تر کشیدگی میں دباؤ کا مرکز بنا۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور یہ معاہدہ اگست میں طے پایا تھا۔ معاہدے کی یہ شق ہی اس کی دفاعی نوعیت کو نمایاں کرتی ہے، مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ فی الحال ہونے والی ملاقات کو سفارتی رابطہ کہا جا رہا ہے، کسی عسکری اقدام کا اعلان نہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اجلاس کی تجویز پاکستان کی طرف سے سامنے آئی۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ ہوا کہ یہ ملاقات پاکستان کی پہل پر ہوئی، جب فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ ہفتے تہران آئے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ حکام سے ملے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر سرکاری دورے پر تہران میں موجود ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس سفارتی کوشش میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے

سعودی مؤقف بھی اسی رخ پر ہے۔ سعودی نائب وزیر خارجہ برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس دورے سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط کرنے میں اہم کردار کی عکاسی ہوتی ہے، اور یہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش ہے۔ یعنی سعودی عرب اسے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا کہ یہ ملاقات علاقائی ممالک کے مفادات پر مبنی علاقائی سلامتی کے نظام کی تشکیل کی جانب پہلا قدم ہو سکتی ہے۔ یہ بیانات فریقین کے اپنے مؤقف ہیں، اس لیے نتائج کا انتظار ضروری ہے

شرکاء، پس منظر اور علاقائی تناظر

وفد کی ترکیب بھی اپنی جگہ معنی خیز ہے۔ تینوں ممالک نے مختلف شعبوں کے نمائندے بھیجے: پاکستان کی جانب سے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، سعودی عرب کی طرف سے وزیر دفاع، اور ترکیے کی جانب سے انٹیلی جنس سربراہ۔ ایرانی جانب سے نائب سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی باقری کنی نے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ وفد علاقائی سلامتی پر مشاورت کے لیے تہران آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ علاقائی سلامتی خطے کے ممالک کے ذریعے یقینی بنائی جائے اور بیرونی مداخلت کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ ایرانی سرکاری مؤقف ہے، جس سے دوسرے فریق لازمی اتفاق نہیں کرتے۔

علاقائی پس منظر خاصا پیچیدہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ اور ایران کے تنازع کے دوبارہ بڑھنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ ترکیے ٹوڈے کی رپورٹ میں بھی ذکر ہے کہ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب سعودی عرب پر حوثی حملے بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ایرانی میڈیا نے بتایا کہ عاصم منیر کے دورے کے دوران ایرانی حکام نے کہا کہ واشنگٹن سے مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک تہران کے مطالبات پورے نہ ہوں۔ یہ بھی ایرانی ذرائع کی بات ہے، جس کی آزاد تصدیق ضروری ہے

یہاں ایک اور نکتے کی وضاحت اہم ہے۔ خبر کے ابتدائی متن میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور محسن رضائی سے ملاقات کا ذکر ہے، جبکہ پہلے سے شائع ہونے والی کئی رپورٹس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور محسن رضائی سے ملاقات کا شیڈول بتایا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ وفد نے ایک سے زیادہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی ہوں، تاہم شرکاء کی حتمی فہرست کے لیے سرکاری بیانات کا انتظار کرنا چاہیے۔ اسی طرح ملاقات کے نتائج، کسی مشترکہ اعلامیے یا آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں بھی ابھی کچھ واضح نہیں۔

عام قاری کے لیے سوال یہ ہو سکتا ہے کہ اس رابطے کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ طویل سرحد، تجارتی روابط اور تاریخی تعلقات ہیں، اس لیے خطے میں کشیدگی میں کمی کا فائدہ پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ دفاعی معاہدے کی ذمہ داریاں بھی ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے توازن برقرار رکھنا ایک نازک سفارتی امتحان ہے۔ مبصرین اسی توازن کو نظر میں رکھ کر آنے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

مختصر یہ کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک کا تہران میں ایرانی قیادت سے رابطہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تینوں ممالک مسلح تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ملاقات کی باضابطہ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں، اس لیے اس کے نتائج کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ جونہی سرکاری اعلامیے جاری ہوں گے، صورتحال زیادہ واضح ہو جائے گی۔

Read more FAQs

1. مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کن ممالک کے درمیان ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان، جو رپورٹس کے مطابق اگست میں طے پایا۔

2. تہران جانے والے وفد میں کون شامل تھا؟
پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن۔

3. وفد نے کن ایرانی حکام سے ملاقات کی؟
ابتدائی اطلاع کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے۔ دیگر رپورٹس میں صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کا بھی ذکر ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:58 AM
طلوع آفتاب06:21 AM
ظہر11:52 AM
عصر02:58 PM
مغرب05:22 PM
عشاء06:46 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6