علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ ذمہ داری ضروری، عراقچی کا بیان

علاقائی سلامتی پر بیان دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

علاقائی سلامتی کا فیصلہ خطے کے ممالک خود کریں، ایرانی وزیر خارجہ کا تہران اجلاس پر ردِعمل

علاقائی سلامتی کے لیے پائیدار حل اسی وقت ممکن ہے جب خطے کے ممالک مشترکہ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ مؤقف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کے مشترکہ اجلاس پر جاری کیے گئے بیان میں پیش کیا۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

بیان میں انہوں نے بتایا کہ چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے تہران میں ہونے والے اجلاس کو علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔

تعاون کو شراکت داری بنانے کے لیے کیا ضروری ہے

عباس عراقچی کے مطابق علاقائی تعاون کو پائیدار شراکت داری میں بدلنے کے لیے بنیادی اصولوں پر اتفاق ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ممالک کے درمیان اعتماد سازی، باہمی احترام اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک صرف بیانات کافی نہیں بلکہ عملی پیش رفت بھی درکار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کا یہ دیرینہ مؤقف بھی دہرایا کہ علاقائی سلامتی کا نظام غیر علاقائی طاقتوں کی فوجی موجودگی اور مداخلت کے بغیر قائم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک ایران کی اولین ترجیح ہیں۔

اپنے بیان کے ایک حصے میں انہوں نے اسرائیل کی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے، اپنے الفاظ میں، "صہیونی حکومت کی جارحیت” کا مقابلہ علاقائی سلامتی کی بنیادی ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ اور جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ یہ ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف ہے اور اسے انہی سے منسوب سمجھا جائے۔

اجلاس کا پس منظر اور آگے کیا دیکھنا ہوگا

تہران اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی نمائندگی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد چاروں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر یہ پہلی ملاقات تھی۔

فی الحال سامنے آنے والی معلومات کے مطابق فریقین نے مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ کسی تفصیلی سکیورٹی فریم ورک یا معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔ اگلے مذاکرات کی تاریخ اور سطح، اور یہ کہ آیا اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں، آنے والے دنوں میں اہم نکات ہوں گے۔

Read more FAQs

سوال 1: عراقچی کے مطابق پائیدار علاقائی سلامتی کے لیے کیا ضروری ہے؟
مشترکہ ذمہ داری کا احساس، اعتماد سازی، باہمی احترام اور عملی اقدامات۔

سوال 2: چاروں ممالک نے کیا اتفاق کیا؟
علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر۔

سوال 3: غیر علاقائی طاقتوں کے بارے میں ایران کا مؤقف کیا ہے؟
ایران ان کی فوجی موجودگی اور مداخلت کے بغیر علاقائی سلامتی کے نظام پر زور دیتا ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:59 AM
طلوع آفتاب06:23 AM
ظہر11:52 AM
عصر02:56 PM
مغرب05:20 PM
عشاء06:44 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6