حج واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کا ایک دن باقی، درخواست منسوخی سے بچنے کے لیے 20 اکتوبر تک ادائیگی لازمی
اسلام آباد: سرکاری حج سکیم کے تحت حج واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کے لیے اب صرف ایک دن رہ گیا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان نے سرکاری عازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ 20 اکتوبر تک ادائیگی لازمی مکمل کر لیں۔ ترجمان کے مطابق مقررہ وقت میں رقم جمع نہ ہونے کی صورت میں حج درخواست منسوخ ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے تاخیر کسی صورت مناسب نہیں۔ جو لوگ مہینوں سے حج کی تیاری کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ آخری مرحلہ سب سے اہم ہے۔ ایک معمولی غفلت پورے انتظار کو ضائع کر سکتی ہے۔
وزارت کے مطابق ادائیگی کے لیے نیشنل آئی ٹی بورڈ کا حج پورٹل یا پاک حج ایپ استعمال کی جا سکتی ہے۔ حج پورٹل پر تین طریقے دستیاب ہیں: بینک کارڈ، ون لنک، یا دستی بینک چالان۔ جو عازمین آن لائن ادائیگی میں سہولت محسوس کرتے ہیں وہ کارڈ یا ون لنک کا انتخاب کر سکتے ہیں، جبکہ جو لوگ بینک جا کر رقم جمع کرانا چاہتے ہیں وہ چالان کا راستہ اپنا سکتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ آخری دن بینکوں اور ایپس پر رش بڑھ جاتا ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ ادائیگی کل کے بجائے آج ہی کر لی جائے۔
یہ خبر ان عازمین کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو آئندہ حج کے لیے سرکاری سکیم میں درخواست دے چکے ہیں۔ عرب نیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ مذہبی امور نے حج 2027 کی دوسری قسط 20 اکتوبر سے پہلے ادا کرنے پر زور دیا اور واضح کیا کہ ادائیگی بروقت نہ ہونے پر درخواست منسوخ ہو سکتی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری سکیم کے تحت 40 دن کے حج پیکج کے لیے 12 لاکھ روپے اور مختصر، یعنی 20 سے 25 دن کے پیکج کے لیے 13 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق حج اخراجات دو مساوی اقساط میں وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی پہلی بار نصف رقم لی گئی اور باقی نصف دوسری قسط میں ادا کرنا ہے۔ اس لیے اپنی مخصوص رقم کی تصدیق حج پورٹل یا پاک حج ایپ سے ضرور کر لیں۔
Where Peace Prevails. https://t.co/X6SwDBwpa9
— Ministry of Hajj and Umrah (@MoHU_En) October 12, 2026
ادائیگی کا طریقہ اور میڈیکل سرٹیفکیٹ کی شرط
ادائیگی کے ساتھ ساتھ وزارتِ مذہبی امور نے ایک اور اہم تقاضے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ عازمینِ حج کے لیے حج پورٹل پر موجود میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا، پھر اسے کسی ڈاکٹر سے تصدیق کروانا ہوگا، اور اس کے بعد تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ دوبارہ حج پورٹل پر اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔ بہت سے لوگ صرف رقم جمع کرانے کو مکمل کارروائی سمجھ لیتے ہیں اور میڈیکل سرٹیفکیٹ کو بعد کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ یہ بھی اسی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اس لیے رقم کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔
حج جیسا سفر جسمانی طور پر خاصا مشقت طلب ہوتا ہے۔ گرمی، رش، پیدل چلنے اور طویل عبادات کے دوران صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ شاید اسی لیے میڈیکل فٹنس کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ عازمین کی صحت کی بنیادی جانچ ہو جائے۔ بزرگ عازمین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو خاص طور پر ڈاکٹر سے مکمل مشورہ کرنا چاہیے اور تمام ضروری ٹیسٹ پہلے سے کرا لینے چاہئیں، تاکہ آخری لمحے کی دوڑ دھوپ سے بچا جا سکے۔
عملی طور پر چند باتیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلے حج پورٹل یا پاک حج ایپ میں لاگ ان کر کے اپنے واجبات کی صحیح رقم دیکھ لیں۔ پھر ادائیگی کا کوئی ایک طریقہ چنیں اور اس کی ٹرانزیکشن کا ثبوت، جیسے رسید یا تصدیقی پیغام، محفوظ رکھیں۔ اگر بینک کارڈ سے ادائیگی ناکام ہو جائے تو فوراً دوسرا طریقہ آزمائیں، مثلاً ون لنک یا چالان، اور وقت ضائع نہ کریں۔ ادائیگی مکمل ہونے کے بعد پورٹل پر اپنی حیثیت دوبارہ دیکھ لیں کہ رقم کا اندراج ہو گیا ہے یا نہیں۔ کسی ابہام کی صورت میں وزارتِ مذہبی امور کی ہیلپ لائن یا متعلقہ بینک سے رابطہ کریں۔
درخواست منسوخی کا خطرہ اور عازمین کے لیے مشورے
وزارت کی ہدایت میں سب سے نمایاں نکتہ درخواست کی منسوخی سے بچنا ہے۔ سرکاری حج سکیم میں نشستیں محدود ہوتی ہیں اور ہزاروں لوگ قرعہ اندازی یا درخواست کے مرحلوں سے گزر کر یہاں تک پہنچتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق حج 2027 کے لیے مجموعی کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 مقرر ہوا ہے، جس میں سے 60 فیصد سرکاری سکیم کے لیے مختص ہے۔ اس لیے اگر کوئی عازم قسط وقت پر جمع نہ کرائے تو اس کی نشست کسی اور کے حصے میں جا سکتی ہے، اور دوبارہ موقع ملنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ عازمین صرف سنی سنائی باتوں پر بھروسہ نہ کریں۔ سوشل میڈیا پر اکثر مختلف تاریخیں اور رقوم گردش کرتی رہتی ہیں، جن میں پرانی خبریں بھی شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ برس کی حج سکیم کے لیے الگ تاریخیں اور رقوم اعلان ہوئی تھیں جو موجودہ اقساط سے مختلف ہیں۔ اس لیے صرف وزارتِ مذہبی امور، حج پورٹل اور پاک حج ایپ پر دی گئی معلومات کو ہی معتبر سمجھیں۔ کسی غیر مصدقہ شخص یا ایجنٹ کو رقم دینے سے گریز کریں، اور ادائیگی ہمیشہ سرکاری ذرائع سے ہی کریں۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ حج واجبات کی دوسری قسط کی ادائیگی ایک انتظامی تقاضا ہی نہیں بلکہ حج کے سفر کی بنیاد ہے۔ مقررہ وقت یعنی 20 اکتوبر تک ادائیگی مکمل کرنا، میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ کی تصدیق کروا کر اپ لوڈ کرنا اور پورٹل پر اپنی معلومات کی جانچ کرنا، یہ تینوں کام بروقت ہو جائیں تو عازمین بے فکر ہو کر باقی تیاری پر توجہ دے سکتے ہیں۔ جنہوں نے ابھی تک ادائیگی نہیں کی، ان کے لیے آج کا دن غنیمت ہے
Read more FAQs
1. حج واجبات کی دوسری قسط کی آخری تاریخ کیا ہے؟
وزارتِ مذہبی امور کے مطابق سرکاری حج سکیم کے عازمین کو 20 اکتوبر تک دوسری قسط جمع کرانا ہوگی۔
2. ادائیگی کیسے کی جا سکتی ہے؟
نیشنل آئی ٹی بورڈ کے حج پورٹل یا پاک حج ایپ کے ذریعے۔ پورٹل پر بینک کارڈ، ون لنک یا دستی بینک چالان کی سہولت دستیاب ہے۔
3. اگر قسط وقت پر جمع نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟
وزارت کے مطابق حج درخواست منسوخ ہو سکتی ہے، اس لیے مقررہ وقت میں ادائیگی کرنا ضروری ہے۔
4. کیا میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ بھی ضروری ہے؟
جی ہاں، حج پورٹل سے سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر کے ڈاکٹر سے تصدیق کروائیں اور تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔
5. دوسری قسط کی رقم کتنی ہے؟
رپورٹس کے مطابق حج اخراجات دو مساوی اقساط میں لیے جا رہے ہیں۔ اپنی مخصوص رقم حج پورٹل یا پاک حج ایپ پر دیکھ لیں۔
6. ادائیگی کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
رسید یا تصدیقی پیغام محفوظ رکھیں اور پورٹل پر اپنی حیثیت چیک کر لیں۔






