بھارت میں الیکشن چیف کے خلاف احتجاج کچلنے کے لیے دہلی سیل ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ سمیت سینکڑوں مظاہرین گرفتار
نئی دہلی، 10 اکتوبر 2026: بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت نئی دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے، جبکہ سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے نوجوانوں کی طنزیہ سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کو ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے دہلی میں تعینات کیے گئے، متعدد میٹرو اسٹیشن اور مارکیٹیں بند کی گئیں، جبکہ مرکزی کاروباری علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔ حکام نے احتجاج کے لیے مختص مقام جنتر منتر کو مظاہرے سے پہلے ہی سکیورٹی حصار میں لے لیا۔

احتجاج کے منتظمین نے بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے کسی بھی غلط کاری کے الزامات مسترد کیے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی سمیت اہم رہنما حراست میں
رائٹرز کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے بتایا کہ اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور سینئر رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے آنے والی پرواز کے دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا۔
ٹیلی وژن فوٹیج میں ڈپکے کو طیارے میں پولیس اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تحریک نے اپنے رہنماؤں کی حراست کو آمرانہ اقدام قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ احتجاج جاری رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سمیت بعض اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم ان تمام واقعات کی مکمل تفصیلات اور حراست میں لیے گئے افراد کی مجموعی تعداد کی الگ سے تصدیق نہیں ہوئی۔
احتجاج کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کو بھی مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا۔ رائٹرز کے ایک صحافی کو بھی کچھ دیر روکنے کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرنے والے بعض وکلا کو بھی حراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
دہلی میں سخت ناکہ بندی، سڑکوں پر رکاوٹیں
احتجاج روکنے کے لیے دارالحکومت کے اہم راستوں اور داخلی مقامات پر ناکے لگائے گئے۔ پولیس اہلکار بسوں میں سوار ہو کر مسافروں کی تلاشی لیتے رہے، جبکہ گاڑیوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔
سڑکوں پر بیریکیڈز اور کنکریٹ کے بلاکس رکھے گئے، جبکہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیاں بھی اہم مقامات پر تعینات کی گئیں۔

اگرچہ جنتر منتر کو مظاہرے کے لیے بند کر دیا گیا تھا، تاہم شہر کے دیگر مقامات پر چھوٹے احتجاج دیکھنے میں آئے۔ ان میں ایک معروف دستکاری بازار اور مہاتما گاندھی کی یادگار کے قریب ہونے والے مظاہرے بھی شامل تھے، جہاں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے حق میں نعرے لگائے۔
رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق پولیس نے بعض مظاہرین کو تعاقب کے بعد پکڑا اور بسوں میں منتقل کیا، جبکہ دیگر افراد بھی احتجاج میں شریک ہونے کے لیے پہنچتے رہے۔
ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام نکالنے کا تنازع
بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ حالیہ سیاسی کشیدگی کی بڑی وجہ بن گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے سے بعض ریاستوں کے حالیہ انتخابات پر بھی اثر پڑا اور بی جے پی کو فائدہ پہنچا۔
رائٹرز کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار میں تصدیقی عمل کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹر اندراجات خارج کیے جانے کا ذکر ہے۔ ان میں تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنی سابقہ رہائش گاہ چھوڑ چکے ہیں، 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا، جبکہ تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کے انتقال کر جانے کی نشاندہی کی گئی۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ نام ابتدائی نظرثانی کے دوران سامنے آنے والے اندراجات سے متعلق ہیں اور اگر کوئی اہل ووٹر غلطی سے فہرست سے خارج ہوا ہے تو وہ دوبارہ اندراج کرا سکتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے محروم طبقات اور اقلیتوں کے حق رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مودی حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

ووٹروں کی فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں کے خلاف احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ہفتے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو انتخابی کمشنروں نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر گیانیش کمار سے اختلاف کیا تھا۔
اپوزیشن کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال نے دہلی میں پابندیوں کو حکومت کی جانب سے عوام کے خلاف جنگ کے مترادف قرار دیا۔ دوسری طرف بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے مؤقف اختیار کیا کہ جمہوریت نے ہجوم کے ذریعے قانون توڑنے کی کوششوں پر برتری حاصل کی۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ انتخابی کامیابیاں نریندر مودی کی مقبولیت اور بھارت کی معاشی ترقی کا نتیجہ ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں انتخابی شکست کے بعد غلط معلومات پھیلا رہی ہیں۔
اگلے سال ریاستی انتخابات سے پہلے کشیدگی
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بھارت میں 2027 کے آغاز سے کئی اہم ریاستی انتخابات متوقع ہیں۔ اس سے قبل امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے تنازع پر نوجوانوں کے احتجاج کے نتیجے میں مودی حکومت کے وزیر تعلیم کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔
موجودہ مظاہروں نے انتخابی شفافیت، شہری آزادیوں اور احتجاج کے حق سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
واضح رہے: ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سیاسی فائدے کے الزامات اپوزیشن اور ناقدین کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ بھارتی الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کی حتمی تعداد اور تمام الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال واضح نہیں۔
🚨 ABHIJEET DIPKE, SAURAV DAS AND ASHUTOSH RANKA DETAINED FROM INSIDE THEIR FLIGHT 🚨
Shame on you @narendramodi @AmitShah https://t.co/hXl6bzh53i
— Cockroach Janta Party - CJP (@Cockroachisback) October 10, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: بھارت میں مظاہرین کس معاملے پر احتجاج کر رہے تھے؟
مظاہرین ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سوال 2: کاکروچ جنتا پارٹی کے کس رہنما کو حراست میں لیا گیا؟
رائٹرز کے مطابق تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور سینئر رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا۔
سوال 3: ووٹر فہرستوں سے کتنے نام خارج کیے گئے؟
رائٹرز کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار میں تصدیقی عمل کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹر اندراجات خارج ہونے کا ذکر ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے اہل ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔
سوال 4: بھارتی الیکشن کمیشن نے الزامات پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
الیکشن کمیشن اور حکمران بی جے پی نے انتخابی فہرستوں میں غلط کاری کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ان تبدیلیوں سے بعض انتخابات کے نتائج متاثر ہوئے ہو سکتے ہیں۔




