اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات، حوثی حملوں کی مذمت، مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ

اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں سعودی عرب پر حوثی حملوں اور علاقائی امن پر گفتگو

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات، اسحاق ڈار کی حوثی حملوں کی مذمت، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ

اسلام آباد (14 اکتوبر 2026): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک پاکستانی شہید اور پانچ پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔

وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق اسحاق ڈار نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسحاق ڈار اور عمان کے وزیر خارجہ نے خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔

روسی وزیر داخلہ ولادی میر کولوکولٹسف کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات
جی ایچ کیو راولپنڈی میں روسی وزیر داخلہ ولادی میر کولوکولٹسف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات

وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی حفاظت اور آزادی یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ یہ گزرگاہیں عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔

اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

پاکستان اور عمان کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کا آٹھواں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ اجلاس سات سال کے وقفے کے بعد ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر گفتگو کی گئی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان تاریخی، سفارتی اور عوامی روابط طویل عرصے سے قائم ہیں۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاسوں کے درمیان طویل وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 2027 میں عمان کا دورہ کرنے اور وہاں اگلا مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس منعقد کرنے کے خواہاں ہیں۔

اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں عمان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک تجارت، لاجسٹکس، بندرگاہوں کے رابطوں، توانائی، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

عمان کے وزیر خارجہ نے علاقائی کشیدگی کے دوران مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی پاکستانی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازعات اور عدم استحکام کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جارہے ہیں، جبکہ توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں سے قیمتوں پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے اسے ایک دیرینہ اور حل طلب بین الاقوامی تنازع قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر آصف علی زرداری کی یورپی کمشنر میگنس برونر سے ملاقات
صدر مملکت آصف علی زرداری اور یورپی کمشنر میگنس برونر کی ملاقات میں غیر قانونی نقل مکانی اور قانونی امیگریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غیر قانونی آبادکاری میں اضافے اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی۔

اسحاق ڈار نے غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق مشترکہ آبی وسائل کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش پاکستان کے پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

پاکستان اور عمان نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اسحاق ڈار نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط، خصوصی اقتصادی زونز اور آزاد تجارتی زونز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے عمان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستانی شہری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

دونوں وزرائے خارجہ نے افرادی قوت کی نقل و حرکت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، تاکہ پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکیں۔

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط، نجی شعبے کے تعاون، تعلیمی و تکنیکی تبادلوں اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: اسحاق ڈار نے حوثی حملوں کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: اسحاق ڈار نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
سوال 2: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان نے کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: فراہم کردہ خبر کے مطابق اسحاق ڈار نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
سوال 3: پاکستان اور عمان کے اجلاس میں کن امور پر گفتگو ہوئی؟
جواب: اجلاس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی امن، سفارت کاری اور پاکستان عمان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سوال 4: پاکستان اور عمان نے علاقائی امن کے لیے کس بات پر اتفاق کیا؟
جواب: دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی، مذاکرات، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:50 AM
طلوع آفتاب06:13 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:06 PM
مغرب05:34 PM
عشاء06:57 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6