خیبرپختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی:وفاقی حکومت

خیبرپختونخوا مشاورتی کونسل کے 11 ارکان کا اعلان

خیبرپختونخوا مشاورتی کونسل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی امور سے متعلق حکم نامہ جاری کردیا ہے

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 11 رکنی کونسل گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت کرے گی، جبکہ صوبائی حکومت کے امور آئینی دفعات اور کے پی گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔

حکم نامے کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ صوبائی امور انجام دیں گے اور اس عمل میں مشاورتی کونسل سے معاونت حاصل کریں گے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔

مشاورتی کونسل میں کون کون شامل ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی 11 رکنی مشاورتی کونسل میں درج ذیل افراد شامل ہیں:

  1. طارق محمود پاشا
  2. ڈاکٹر عامر عبداللہ
  3. لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر
  4. ثمر بلور
  5. ڈاکٹر سرفراز علی
  6. عامر جاوید
  7. ڈاکٹر ایم ارشاد
  8. کفایت اللہ
  9. طیب قریشی
  10. عثمان سیف اللہ خان
  11. آصف رفیق

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کونسل کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے ارکان کو ’’شائننگ اسٹار‘‘ قرار دیا۔

کونسل کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم ہوگا

عطا تارڑ کے مطابق مشاورتی کونسل کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جسے براہ راست فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کونسل گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت کرے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ محمد یحییٰ اخونزادہ ایڈوائزری کونسل کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوں گے۔ الگ سیکرٹریٹ اور براہ راست فنڈنگ کا انتظام کونسل کے دفتری اور انتظامی امور کی انجام دہی سے متعلق ہے۔

ثنااللہ ایڈووکیٹ,ایڈووکیٹ جنرل مقرر

وفاقی حکومت کے حکم نامے کے مطابق ثنااللہ ایڈووکیٹ کو خیبرپختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل صوبائی حکومت کے قانونی معاملات میں نمائندگی اور آئینی و قانونی امور پر معاونت فراہم کرنے والا اہم عہدہ ہے۔

تقرری سے متعلق مزید شرائط اور ذمہ داریوں کی تفصیلات کے لیے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کا مکمل متن اہم ہوگا۔

صوبائی امور آئینی دفعات کے مطابق انجام دیے جائیں گے

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے صوبائی حکومتی امور آئینی دفعات اور کے پی گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق چلائے جائیں گے۔ اس انتظام کے تحت گورنر کو وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ امور میں مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل ہوگی۔

حکم نامے کے مطابق یہ انتظام فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس اقدام کے عملی دائرۂ کار، اختیارات کی حدود اور مدت کا تعین متعلقہ آئینی دفعات اور سرکاری دستاویزات کی روشنی میں کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے انتظامی معاملات میں نئی پیش رفت

11 رکنی مشاورتی کونسل کی تشکیل صوبے کے انتظامی معاملات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ کونسل کے قیام، سیکرٹریٹ اور فنڈنگ سے متعلق اعلان کے بعد اس کے عملی کردار اور گورنر کے ساتھ رابطہ کاری پر توجہ رہے گی۔

حکومتی اعلان کے مطابق کونسل کا بنیادی کام گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت کرنا ہے۔ تاہم کونسل کی روزمرہ کارروائی، اجلاسوں کے طریقہ کار اور مختلف شعبوں میں ذمہ داریوں کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس کے عملی کردار کی مکمل تصویر واضح ہوگی۔

READ MORE FAQS

سوال: خیبرپختونخوا کے لیے کتنے ارکان پر مشتمل مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے؟

جواب: وفاقی حکومت نے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے۔

سوال: مشاورتی کونسل کا بنیادی کام کیا ہوگا؟

جواب: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق کونسل گورنر خیبرپختونخوا کی صوبائی امور میں معاونت کرے گی۔

سوال: مشاورتی کونسل کے لیے سیکرٹریٹ بھی قائم ہوگا؟

جواب: جی ہاں، عطا تارڑ کے مطابق کونسل کا الگ سیکرٹریٹ ہوگا اور اسے براہ راست فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

سوال: ایڈوائزری کونسل کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کون ہوں گے؟

جواب: عطا تارڑ کے مطابق محمد یحییٰ اخونزادہ ایڈوائزری کونسل کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوں گے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:47 AM
طلوع آفتاب06:09 AM
ظہر11:55 AM
عصر03:11 PM
مغرب05:40 PM
عشاء07:03 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6