مولانا فضل الرحمان کے بیان پر حکومتی رہنماؤں کا ردعمل، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور معدنی وسائل پر نئی بحث

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق مولانا فضل الرحمان اور حکومتی رہنماؤں کے بیانات

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر حکومتی رہنماؤں کا ردعمل، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور معدنی وسائل پر نئی بحث

اسلام آباد / لاہور: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کے مقاصد سے متعلق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر حکومتی رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا اور امریکی معاہدوں کے ذریعے پاکستانی وسائل کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کھولنا ہے۔ ان کے مطابق ملکی وسائل اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

طلال چوہدری: سرحدی صورت حال کے باعث ایمرجنسی آخری آپشن تھی

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جڑانوالہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں جے یو آئی کے سربراہ سے اس مؤقف کی توقع نہیں تھی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کا خیبرپختونخوا پولیس شہداء پیکج میں اضافے کا اعلان
فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء اور زخمی اہلکاروں کے مالی پیکج میں اضافے کا اعلان کیا

طلال چوہدری کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن تھی اور مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کی ناکامی کے بعد وفاقی حکومت نے یہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق صوبے میں کوئی نیا سیاسی سیٹ اپ بنانے نہیں آیا، ہنگامی صورت حال مختصر مدت کے لیے ہے اور کوشش کی جائے گی کہ سیاسی عمل جلد بحال ہو۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان بعض معاملات میں مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ ان کے اس بیان کو حکومتی مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے؛ اس کے حق میں کوئی آزادانہ ثبوت ان کے بیان میں پیش نہیں کیا گیا۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے موجود عناصر تک پہنچنے کے لیے پاکستان سے باہر بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہونے والے افراد کے خلاف ریاست کارروائی کرے گی۔

عظمیٰ بخاری کا مولانا فضل الرحمان سے بیان پر نظرثانی کا مطالبہ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر سیاست دان کو دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کی محرومیوں اور ترقیاتی مسائل کے حوالے سے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برس سے حکومت کرنے والی جماعت کو صوبے میں امن و امان اور ترقیاتی کاموں کے بارے میں جواب دینا چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت ماضی میں دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں اس معاملے پر اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔

انہوں نے سیاست دانوں پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اداروں اور شہداء کے احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔

طارق فضل چوہدری: دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں کا ساتھ دیا جائے

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک ہے۔

ان کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی الزامات کی نذر کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ساہیوال میں طلبہ کی تقریب سے خطاب کرتی ہوئی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
مریم نواز نے ساہیوال میں لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب میں اے آئی لیبز اور الیکٹرک بسوں کے منصوبوں کا ذکر کیا

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ترجیح عوام کا تحفظ اور خیبرپختونخوا میں امن کا قیام ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔

وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر جواب دہی ضروری ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

مریم نواز کا ردعمل، دہشت گردی کے متاثرین کا ذکر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت خود دہشت گردی سے متاثر رہی ہے، اس لیے دہشت گردی کے معاملے پر ان کے مؤقف سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں۔

مریم نواز نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی، امن و امان اور انتظامی معاملات پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صوبے میں دہشت گردوں کو پناہ اور سہولتیں فراہم کی گئیں۔ یہ الزامات وزیراعلیٰ پنجاب کے سیاسی مؤقف کا حصہ ہیں۔

انہوں نے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کا مؤقف: ایمرجنسی اور معاہدوں کا مقصد وسائل پر اختیار

مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سابق قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کا نفاذ معدنی ذخائر پر قبضے کی کوشش ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ معاہدوں پر بھی تحفظات ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے ذریعے پاکستانی وسائل کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کھولا جا رہا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ملکی وسائل اور قومی مفادات پر سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بیان پر حکومتی رہنماؤں نے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی اقدامات کا تعلق امن و امان اور دہشت گردی کے مسئلے سے ہے۔

ایمرجنسی، امن و امان اور معدنی وسائل پر بحث جاری

حکومتی رہنماؤں اور مولانا فضل الرحمان کے بیانات سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے مقصد، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور معدنی وسائل کے مستقبل پر سیاسی اختلاف نمایاں ہوا ہے۔

ایک جانب حکومتی رہنما امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کو اقدامات کی وجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے ایمرجنسی اور بیرونی معاہدوں کو معدنی وسائل اور قومی خودمختاری سے جوڑا ہے۔

ان دعوؤں اور الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے ایمرجنسی کے باضابطہ نوٹیفکیشن، متعلقہ معاہدوں اور حکومتی پالیسی دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق کیا کہا؟
جواب: مولانا فضل الرحمان نے ایمرجنسی کو سابق قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل اور بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق خدشات کے تناظر میں بیان کیا۔
سوال 2: مولانا فضل الرحمان کے بیان پر کن حکومتی رہنماؤں نے ردعمل دیا؟
جواب: طلال چوہدری، عظمیٰ بخاری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور مریم نواز سمیت حکومتی رہنماؤں نے ان کے بیان پر تنقید کی۔
سوال 3: حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: حکومتی رہنماؤں کے مطابق ایمرجنسی کا فیصلہ سکیورٹی صورت حال اور مذاکرات کی ناکامی کے تناظر میں کیا گیا، جبکہ سیاسی عمل کی بحالی پر بھی زور دیا گیا۔
سوال 4: کیا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا مقصد معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے؟
جواب: یہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ظاہر کیا گیا مؤقف ہے۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن، معاہدوں اور پالیسی دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:51 AM
طلوع آفتاب06:14 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:06 PM
مغرب05:33 PM
عشاء06:56 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6