خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی قرارداد قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور، اپوزیشن کا احتجاج شدید نعرے بازی
اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پیش کی گئی قرارداد قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرلی گئی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دونوں ایوانوں میں قرارداد پیش کی، جبکہ سینیٹ میں منظوری کے وقت اپوزیشن ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی کی۔ اس سے قبل قرارداد پر بحث ہوئی، جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
قومی اسمبلی میں بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ معاملے کا کوئی درمیانی راستہ نکالا جاسکے۔

بلاول بھٹو نے سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئین میں موجود اختیارات اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنا ضروری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی صورتحال اور سرحد پار سے دراندازی کو ایمرجنسی کے فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 3 ہزار 787 ہوگئی۔
وزیر قانون نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا طویل عرصے سے صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کی سنگین صورتحال سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق گورنر نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خطوط کے ذریعے بھی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے مسائل کے باوجود سیاسی سرگرمیوں اور دوسرے شہروں کے دوروں کو ترجیح دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مسلح افواج، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کی۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قرارداد کی منظوری آئینی تقاضا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ قرارداد کی مخالفت کرتی ہے تو ووٹنگ کے ذریعے اپنا مؤقف سامنے لاسکتی ہے۔
قرارداد منظوری کے لیے پیش کیے جانے پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابا اور احتجاج کیا، جس کے بعد وہ ایوان سے باہر چلے گئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سینیٹ نے اپوزیشن ارکان کی عدم موجودگی میں قرارداد منظور کرلی۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی کارروائی متوقع ہے، جہاں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اس اقدام کی منظوری کا معاملہ پیش کیا جانا ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج آئینی طور پر الگ معاملات ہیں، اس لیے ان سے متعلق قراردادوں، منظوریوں اور قانونی اقدامات کی حیثیت کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
نوٹ: اشاعت سے پہلے دونوں ایوانوں کی کارروائی، قرارداد کی حتمی منظوری، آئینی آرٹیکلز اور مشترکہ اجلاس کے شیڈول کی سرکاری پارلیمانی ریکارڈ سے تصدیق کرلیں۔
The House adopted the following resolution moved by Dr. Tariq Fazal Chaudhary, Minister for Parliamentary Affairs.
"The National Assembly approves the Proclamation of Emergency issued by the President on the 11th October, 2026 in the Province of Khyber Pakhtunkhwa under second proviso of clause (1) of Article 232 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan"
#NASession @AyazSadiq122 @DrTariqFazal
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) October 14, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی قرارداد کہاں منظور ہوئی؟
جواب: فراہم کردہ خبر کے مطابق قرارداد قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور ہوئی۔
سوال 2: ایمرجنسی کی قرارداد کس نے پیش کی؟
جواب: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قرارداد پیش کی۔
سوال 3: حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی کیا وجوہات بتائیں؟
جواب: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی صورتحال اور سرحد پار سے دراندازی کو فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔
سوال 4: بلاول بھٹو زرداری نے کیا تجویز دی؟
جواب: بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی ایک اور کوشش کریں تاکہ مسئلے کا درمیانی راستہ نکالا جاسکے۔





