خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ وزیراعظم کی صدر سے مشاورت
خیبرپختونخوا گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر وفاقی سطح پر مشاورت جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر اہم حکومتی شخصیات سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال، امن و امان اور پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق آئینی و قانونی پہلو بھی زیر بحث آئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر مزید مشاورت کی جائے گی۔ صدر زرداری نے بھی ایوان صدر میں صوبے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس طلب کیا ہے۔
مشاورتی عمل میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ آئینی راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کسی اقدام کے نفاذ کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی مشاورت میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر امور کشمیر امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور وفاقی حکومت کے ممکنہ آئینی و قانونی اقدامات پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی، جبکہ وزیر قانون نے گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت آئینی و قانونی معاملات کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا معاملہ
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر ہونے والی مشاورت میں پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کو بھی اہم موضوع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاج کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے بعض حکام نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان کا ذکر کیا ہے، تاہم تازہ رپورٹس کے مطابق فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات کے ساتھ صوبے کی سکیورٹی صورتحال بھی مشاورت کا اہم حصہ ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی سطح پر سیاسی، آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم اور صدر کے درمیان ہونے والی متوقع مشاورت کے بعد خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق آئندہ لائحہ عمل مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ تاہم اس وقت دستیاب اطلاعات کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
READ MORE FAQS
سوال: خیبرپختونخوا میں کیا گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے؟
جواب: نہیں، تازہ اطلاعات کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
سوال: وزیراعظم شہباز شریف صدر آصف علی زرداری سے کیوں مشاورت کریں گے؟
جواب: خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت ممکنہ آئینی و قانونی آپشنز پر مشاورت کے لیے ملاقات متوقع ہے۔
سوال: خیبرپختونخوا کی صورتحال میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کیوں زیر بحث ہے؟
جواب: پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، جس کے تناظر میں وفاقی حکومت سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
سوال: وزیراعظم ہاؤس کے اجلاس میں کن معاملات پر غور ہوا؟
جواب: اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی و قانونی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔






