لانگ مارچ اٹل قرار: بیرسٹر گوہر علی خان کا پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے خطاب، ایم پی او کے تحت گرفتاری کو غیر قانونی کہا
لانگ مارچ اٹل: پارلیمنٹ ہاؤس میں گوہر علی خان کا مؤقف
لانگ مارچ اٹل ہے۔ یہ مؤقف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران پیش کیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت مارچ روکنے کی خواہشمند ہے تو اس کا راستہ زور اور پابندی نہیں بلکہ مطالبات کو سنجیدگی سے لینا اور مذاکرات کا دروازہ کھولنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد ترجیح ہے اور اسی انداز میں آئین و قانون کی حدود میں مارچ کی تیاری جاری ہے۔
ایم این ایز کی گرفتاری: ایم پی او کے تحت کارروائی غیر قانونی قرار
گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر علی خان کا ایک اہم نکتہ پارٹی کے ایم این ایز کی گرفتاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ارکانِ قومی اسمبلی لاکھوں ووٹوں کے مینڈیٹ پر پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں اور اپنے حلقوں میں امن و امان کے ذمہ دار لیڈر ہوتے ہیں۔ ایسے ارکان کو ایم پی او کے تحت گرفتار کرنا غیر قانونی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اس مسئلے پر اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسپیکر لاہور میں تھے اور آج تین بجے کے قریب واپس پہنچنے والے تھے، جبکہ وہ خود اُس وقت دستیاب نہیں تھے۔ اس لیے آج یا کل کوئی ملاقات شیڈول نہیں ہوئی، البتہ بات چیت ضرور ہوئی ہے۔
پارلیمانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاری کے معاملات میں ایوان کی قیادت کا کردار دستوری روایات اور ایوان کی وقار سے جڑا ہوتا ہے، اسی لیے اس پہلو کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
شوکت یوسف زئی کا خط: داخلی معاملہ قرار
شوکت یوسف زئی کے خط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اس نوعیت کے خطوط انہیں کثرت سے موصول ہوتے ہیں؛ صرف اسی ہفتے ایک سو اسی خطوط موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور جہاں ممکن ہو جواب بھی دیتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ پارٹی کا داخلی معاملہ ہے۔ پی ٹی آئی کوئی آمرانہ یا کنگز پارٹی نہیں، پارٹی میں جمہوریت ہے اور ہر فرد اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔ شوکت یوسف زئی نے واٹس ایپ پیغام کے ذریعے خط بھیجا اور اپنی رائے دی۔ وہ بدستور پارٹی کے انفارمیشن سیکرٹری ہیں اور ان کی رائے کی قدر کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ملاقاتوں میں سب مکمل رائے رکھتے ہیں اور بعد ازاں پارٹی فیصلے پر عمل ہوتا ہے۔ پارٹی کو شوکت یوسف زئی کے خلاف کوئی شکایت نہیں، تاہم انہیں یہ مشورہ دیا گیا کہ اس نوعیت کا پیغام بھیجنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ وہ لیک ہو گیا، جو مناسب نہیں تھا۔
مذاکرات اور پارلیمانی روایات
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آنا جانا تو ہے مگر مقصد اور بنیادی نکات پر بات نہیں ہو رہی، جس کے سبب معاملات ہائپ پر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خط لکھا ہے اور وہ واپس ملک آ چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ لیڈر آف اپوزیشن سے ملاقات ایک آئینی ذمہ داری ہے اور یہ ملاقات ہونا ضروری ہے تاکہ اعتماد کی فضا بنے اور مؤقف میں نرمی پیدا ہو۔ ان کے مطابق عمر ایوب لیڈر آف اپوزیشن ہیں اور خان صاحب نے یہ ذمہ داری انہیں دی ہے؛ بات چیت اور فیصلوں کا مینڈیٹ ان کے پاس ہے اور تمام فیصلے انہی کے ہوں گے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی: سخت مخالفت
گفتگو کا سب سے واضح حصہ صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ مارچ سیاسی اور پرامن طریقے سے ہو اور صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نہ لگے۔
ان کے مطابق اگر گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو غیر جمہوری قوتوں کو تقویت ملے گی، تناؤ اور نفرت بڑھے گی، صوبے کا امن و امان متاثر ہوگا اور صوبے کے مینڈیٹ کو سوالیہ نشان بنایا جائے گا — چاہے یہ اقدام ایک یا دو ہفتے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے جو ماحول بنایا ہے، اس میں قانون کی حکمرانی اور دہشت گردی کے خلاف ایک ہی آواز میں لڑنا چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ ایمرجنسی یا گورنر راج ان کوششوں پر بریک لگائے گا اور حالات مزید خراب ہوں گے۔
انہوں نے اپیل کی کہ طاقتور حلقے، اقتدار والے اور حکومت کسی صورت یہ قدم نہ اٹھائیں، کیونکہ مارچ سے چھٹکارے کا یہ علاج نہیں۔ حل یہ ہے کہ بات سنی جائے، ملاقاتیں کرائی جائیں، علاج کرایا جائے، مقدمات کا جائزہ لیا جائے اور انصاف کے فیصلے کیے جائیں۔
مطالبات اور خیبرپختونخوا
انہوں نے بتایا کہ 5 اکتوبر کے بعد سے تقریباً ایک سال ہو چکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی۔ مارچ کے مطالبات ان کے بقول بہت سادہ ہیں: خان صاحب کا علاج اور انصاف، بشریٰ بی بی کا علاج اور انصاف، مقدمات کا جائزہ اور خاندانی ملاقاتیں۔
انہوں نے کہا کہ خان صاحب کی بہنوں کو جیل میں ایک گھنٹہ بھی ناقابلِ قبول ہے۔ وہ خواتین ہیں، غیر سیاسی ہیں اور صرف بھائی کی خاطر آئی ہیں۔ انہیں گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا، دوائی اور ملاقاتیں مسترد کی گئیں۔ ان کے مطابق روایات کا خیال رکھتے ہوئے انہیں گیسٹ ہاؤس میں رکھا جا سکتا تھا اور خاندان کے افراد کو الگ رکھا جا سکتا تھا۔
انہوں نے ڈاکٹر عظمیٰ، نورین بی بی اور علیمہ خان کا جیل میں ہونا، اور متعدد ایم این ایز و رہنماؤں جیسے داور کنڈی، عادل باز، جمال حسن، میاں غوث، حاجی امتیاز، فضل محمد، عزیر، زبیر اور فتح اللہ (ایم پی اے خیبرپختونخوا) کی گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا۔
پرامن مارچ کا پرسیپشن
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ یہ سوچ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے کہ مارچ کے شرکاء تباہی پھیلانے آئیں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی سے انہیں جتنا پیار ہے شاید کسی اور کو نہ ہو؛ وہ ایک گملا بھی ٹوٹنے نہیں دیں گے اور کسی قسم کے نقصان کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پرامن سیاسی انداز میں آئین و قانون کے مطابق مارچ ہو تاکہ دنیا دیکھے کہ وہ کتنے پرامن ہیں۔ ان کے بقول وہ آخری لوگ ہوں گے جو کسی نقصان کی بات کریں۔
خیبرپختونخوا کی قیادت پر اعتماد
انہوں نے کہا کہ ارکانِ اسمبلی اپنے اعتماد کے ووٹ محفوظ رکھیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ رہیں گے، وہ خان صاحب کے اعتماد کے ساتھ ہیں اور سب کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نہ گورنر راج لگے گا نہ ایمرجنسی، کیونکہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کے لیے ہوتی ہیں، نئے بحران پیدا کرنے کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی نیا بحران پیدا کریں گے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹ جائے گی۔
4 اکتوبر کا فیصلہ
اختتام پر بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ 4 اکتوبر کو نکلنا اٹل فیصلہ ہے۔ سیاسی فیصلوں میں تاخیر ممکن ہوتی ہے، مگر فی الحال چار تاریخ کو نکلنا اٹل ہے۔
Read more FAQs
1۔ لانگ مارچ کے بارے میں کیا اعلان ہوا؟
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق چار اکتوبر کو نکلنا اٹل فیصلہ ہے۔
2۔ حکومت مارچ روکنا چاہے تو کیا راستہ ہے؟
ان کے مطابق مطالبات تسلیم کیے جائیں اور بات چیت کے دروازے کھولے جائیں۔
3۔ ایم این ایز کی گرفتاری پر کیا مؤقف ہے؟
انہوں نے کہا کہ ایم این ایز کا ایم پی او کے تحت گرفتار ہونا غیر قانونی ہے اور اسپیکر سے درخواست کی کہ اپنا کردار ادا کریں۔
4۔ گورنر راج یا ایمرجنسی پر کیا کہا گیا؟
انہوں نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ نیا بحران پیدا کرے گا۔
5۔ شوکت یوسف زئی کے خط پر کیا ردِعمل دیا؟
انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا داخلی معاملہ ہے، رائے کی قدر کی جاتی ہے، تاہم لیک ہونے کے سبب اس پر اعتراض ہے۔
6۔ لانگ مارچ کے مطالبات کیا ہیں؟
خان صاحب اور بشریٰ بی بی کا علاج و انصاف، مقدمات کا جائزہ اور خاندانی ملاقاتیں۔
7۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر اعتماد کا اظہار ہوا؟
جی ہاں، انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ رہیں گے، انہیں مکمل اعتماد اور حمایت حاصل ہے۔







