بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں اچانک انتقال کرگئے
ممبئی: بھارتی سینما کے معروف اور بے باک اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں اچانک انتقال کرگئے۔ اداکار کو جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنے گھر پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹرز کی مسلسل کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جاسکی۔
نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ بی بی سی مراٹھی کے مطابق گوا کے منی پال اسپتال کے ڈاکٹر شیکھر سالکر نے بھارتی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ نانا پاٹیکر کو اسپتال پہنچانے کے بعد تقریباً 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر دی گئی، تاہم انہیں بحال نہیں کیا جاسکا۔
نانا پاٹیکر کی آخری رسومات جمعرات کی شام مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ پونے میں ان کے فارم ہاؤس پر ادا کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
نانا پاٹیکر کو گھر پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا

رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں اپنی رہائش گاہ پر بے ہوش پائے گئے۔ طبی امداد کے لیے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔
ان کی اچانک موت کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی فلمی صنعت میں سوگ کی فضا چھا گئی اور ساتھی اداکاروں، فلمی شخصیات اور مداحوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نانا پاٹیکر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی اداکاری کے تنوع اور بے باک شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا۔
مودی کے مطابق نانا پاٹیکر نے ایسے کردار ادا کیے جو کئی نسلوں کے شائقین کے ذہنوں میں ہمیشہ نقش رہیں گے۔ ان کے انتقال سے فن کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔
’ویلکم‘ کے ساتھی اداکار اکشے کمار بھی افسردہ
نانا پاٹیکر کے ساتھ مقبول کامیڈی فلم ویلکم میں کام کرنے والے اداکار اکشے کمار نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
اکشے کمار نے انہیں ایک ایسا منفرد فنکار قرار دیا جس کی آواز، اداکاری کی شدت اور کردار سے سچائی کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت ناظرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔
نانا پاٹیکر کی خاص آواز، مکالموں کی منفرد ادائیگی اور کرداروں میں غیر معمولی شدت ان کی شناخت بن چکی تھی۔ ان کے کئی فلمی مکالمے عوامی سطح پر اتنے مقبول ہوئے کہ انہیں اسکولوں، چائے خانوں اور عام گفتگو میں بھی دہرایا جاتا تھا۔
’گامن‘ سے فلمی سفر شروع کیا
نانا پاٹیکر کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ 1951 میں مہاراشٹرا میں پیدا ہوئے اور فلموں میں آنے سے قبل تھیٹر سے وابستہ رہے۔
انہوں نے 1978 میں فلم گامن سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ابتدائی دور میں انہوں نے متعدد فلموں میں چھوٹے کردار ادا کیے، تاہم ان کی منفرد اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی نے جلد ہی فلم سازوں کی توجہ حاصل کرلی۔
1989 میں فلم پرندہ میں گینگسٹر انا کا کردار ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس کردار نے انہیں ملک بھر میں شہرت دلائی اور انہیں بہترین اداکاری پر نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔
’کرانتی ویر‘ اور ’اگنی ساکشی‘ میں یادگار اداکاری
نانا پاٹیکر نے 1990 کی دہائی میں ایک کے بعد ایک مختلف نوعیت کے کردار ادا کرکے ثابت کیا کہ انہیں صرف ایک ہی قسم کے کرداروں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

فلم کرانتی ویر میں پرتاپ نارائن تلک کا کردار ان کی یادگار پرفارمنس میں شمار ہوتا ہے، جبکہ اگنی ساکشی میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
ان کی تین نیشنل فلم ایوارڈز فلم پرندہ، کرانتی ویر اور اگنی ساکشی میں ان کی اداکاری کے اعتراف میں دیے گئے، جو ان کے وسیع فنی سفر کا اہم اعزاز ہیں۔
’خاموشی‘ میں بالکل مختلف کردار
نانا پاٹیکر کی اداکاری کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ جب شائقین اور ناقدین انہیں زیادہ تر سخت، بلند آواز اور طاقتور کرداروں کے لیے جاننے لگے تو انہوں نے بالکل مختلف کردار ادا کرکے سب کو حیران کردیا۔
فلم خاموشی: دی میوزیکل میں انہوں نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جو سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ اس کردار میں انہوں نے اپنی اداکاری کے ذریعے جذبات کو اس انداز میں پیش کیا کہ بغیر زیادہ مکالموں کے بھی کردار کی کیفیت ناظرین تک پہنچتی رہی۔
بعد ازاں 2010 میں ہدایت کار پرکاش جھا کی فلم راج نیتی میں انہوں نے ایک زیرک اور تجربہ کار سیاست دان کا کردار ادا کیا، جس نے ان کی اداکاری کے ایک اور پہلو کو نمایاں کیا۔
اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری بھی کی
نانا پاٹیکر صرف اداکار ہی نہیں بلکہ ہدایت کار اور مصنف بھی تھے۔ انہوں نے فلم پراہار: دی فائنل اٹیک کی ہدایت کاری بھی کی اور خود اس میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے ہندی کے ساتھ ساتھ مراٹھی سینما اور تھیٹر میں بھی نمایاں کام کیا۔ فلموں میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود تھیٹر سے ان کا تعلق برقرار رہا۔
ان کے مشہور تھیٹر ڈراموں میں پروش (Purush) اور حمیدابائی چی کوٹھی شامل ہیں۔ تھیٹر کے تجربے نے ان کی مکالموں کی ادائیگی اور کرداروں میں شدت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کسانوں کے مسائل پر بھی آواز اٹھاتے رہے
نانا پاٹیکر اپنی اداکاری کے علاوہ سماجی اور عوامی مسائل پر کھل کر بات کرنے کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ حکومت، وزرا اور پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنی رائے واضح انداز میں بیان کرتے تھے۔

خصوصاً کسانوں کے مسائل ان کے لیے اہم رہے۔ 2015 میں انہوں نے اداکار مکرند اناساپورے کے ساتھ مل کر نام فاؤنڈیشن قائم کی، جس نے مہاراشٹرا میں کسانوں کی فلاح اور پانی کے تحفظ سمیت مختلف سماجی منصوبوں پر کام کیا۔
تنازعات بھی نانا پاٹیکر کے کیریئر کا حصہ رہے
نانا پاٹیکر کا طویل فنی سفر تنازعات سے بھی مکمل طور پر خالی نہیں تھا۔
2018 میں اداکارہ تنوشری دتہ نے ان پر ایک فلم کے سیٹ پر مبینہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
یہ معاملہ بھارت میں #MeToo تحریک کے دوران نمایاں ہوا۔ بعد ازاں 2019 میں پولیس نے تحقیقات کے بعد کہا کہ الزامات کے حوالے سے کارروائی کے لیے کافی شواہد نہیں ملے۔
بھارتی سینما میں ایک منفرد آواز خاموش ہوگئی
نانا پاٹیکر نے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں گینگسٹر، پولیس افسر، فوجی، سیاست دان، سماجی کردار اور مزاحیہ کردار سمیت مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔
فلم ویلکم میں ان کا مزاحیہ کردار ہو یا پرندہ، کرانتی ویر، خاموشی، اگنی ساکشی اور راج نیتی جیسے سنجیدہ کردار، نانا پاٹیکر نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
ان کی بھاری اور قدرے کھردری آواز، بے باک انداز اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت انہیں بھارتی سینما کے دیگر اداکاروں سے منفرد بناتی تھی۔
75 برس کی عمر میں نانا پاٹیکر کے اچانک انتقال کے ساتھ بھارتی فلمی دنیا نے ایک ایسے فنکار کو کھو دیا ہے جس نے اداکاری کے ساتھ تھیٹر، ہدایت کاری اور سماجی کاموں میں بھی اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کے یادگار کردار اور مکالموں کی گونج شائقین کے درمیان طویل عرصے تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔
NANA PATEKAR THE GREATEST?💔💔A couple of hours ago, I received the heartbreaking news that my friend Nana Patekar, one of the finest actors and human beings in Indian cinema, is no more.🥹🥹🥹
I had just finished our performance and taken the curtain call. As I walked into the wings, my director Gajendra told me, “Nana is no more.”🥹
After that, I had to meet people, pose for photographs, smile, sit down for a meal… while trying to absorb what I had just heard. It was terribly difficult.
But somewhere, I felt that Nana would have wanted me to finish my work. Fulfil my responsibility to the people who had come to see us. And then, perhaps, remember him.
Actually, knowing him, I can almost hear him dismissing the very idea of a tribute: “अरे, तो क्या हो गया? मर गया तो कौन-सी बड़ी बात है? सभी मरते हैं!”
That was Nana. Direct, unpretentious, with his own way of saying even the most difficult things.❤️🩹
I will miss you, my friend. Your warmth. Your hugs. Your extraordinary performances. And whenever I miss seeing you, I will watch your films. Though today, I wish I could simply hug you one more time.
My love and deepest condolences to your family and to everyone who loved you. अलविदा मेरे दोस्त, नाना पाटेकर। बहुत सारा प्यार। 🙏💔 #NanaPatekar #HeartBreaking
— Anupam Kher (@AnupamPKher) October 8, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: نانا پاٹیکر کون تھے؟
جواب: نانا پاٹیکر معروف بھارتی اداکار، ہدایت کار اور تھیٹر فنکار تھے جنہوں نے ہندی اور مراٹھی سینما میں نمایاں کام کیا۔
سوال 2: نانا پاٹیکر کی عمر کتنی تھی؟
جواب: نانا پاٹیکر انتقال کے وقت 75 برس کے تھے۔
سوال 3: نانا پاٹیکر کا انتقال کہاں ہوا؟
جواب: نانا پاٹیکر کا انتقال گوا میں ہوا، جہاں انہیں گھر پر بے ہوشی کی حالت میں پائے جانے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
سوال 4: نانا پاٹیکر کو کتنے نیشنل فلم ایوارڈ ملے؟
جواب: نانا پاٹیکر کو اپنے فلمی کرداروں پر تین نیشنل فلم ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔






