موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات؛ پاکستان کا عالمی مالی معاونت تیز کرنے کا مطالبہ
موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیویارک میں اہم اجلاسوں کے دوران عالمی برادری سے مالی معاونت تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کا نظام اور موسمیاتی سرمایہ کاری مضبوط بنا سکے۔
سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کا نظام مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، تاہم اس کے لیے بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔
نیویارک میں اہم اجلاسوں سے خطاب
وزارتِ خزانہ کے مطابق محمد اورنگزیب نے نیویارک میں اہم اجلاسوں میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے درپیش خطرات اور اس سلسلے میں مالی معاونت کی ضرورت کو نمایاں کیا۔
ابتدائی انتباہی نظام اور موسمیاتی سرمایہ کاری
وزیر خزانہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے بیرونی معاونت کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ہوگا۔
گرین کلائمیٹ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈز سے مطالبہ
محمد اورنگزیب نے گرین کلائمیٹ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈز سے مالی معاونت تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی فنڈز تک رسائی کا طریقہ کار آسان بنایا جائے، تاکہ پاکستان جیسے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک بروقت وسائل حاصل کر سکیں۔
عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون کی اپیل
وفاقی وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی مارکیٹ سے مالی وسائل حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف مخصوص موسمیاتی فنڈز پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ وسیع تر مالیاتی ذرائع سے بھی معاونت کا خواہاں ہے۔
کاپ 31 ایکشن ایجنڈے کی حمایت
محمد اورنگزیب نے پاکستان کی جانب سے کاپ 31 ایکشن ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایکشن ایجنڈا پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔
ورچوئل اثاثہ جات اور ڈیجیٹل نظام پر گفتگو
وزیر خزانہ نے ورچوئل اثاثہ جات کے ریگولیٹڈ فریم ورک، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل نظام پر بھی گفتگو کی۔ اگرچہ یہ موضوع براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نہیں، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک اجلاسوں کا دائرہ کار مالیاتی جدت کے دیگر پہلوؤں تک بھی پھیلا ہوا تھا۔
پاکستان اور موسمیاتی مالی معاونت
پاکستان کو عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار کیا جاتا رہا ہے، خصوصاً 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد۔ اس تناظر میں پاکستان مسلسل بین الاقوامی فورمز پر موسمیاتی انصاف اور مالی معاونت کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے، تاکہ متاثرہ ممالک کو بحالی اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کے لیے ضروری وسائل بروقت میسر آ سکیں۔
READ MORE FAQS
- وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں کیا کہا؟
ان کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات کا سامنا ہے اور سیلاب سے بنیادی ڈھانچے و عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ - یہ بیان کہاں دیا گیا؟
محمد اورنگزیب نے یہ باتیں نیویارک میں اہم اجلاسوں کے دوران کہیں۔ - کن فنڈز سے معاونت تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا؟
گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سے۔ - کن عالمی اداروں سے تعاون کی اپیل کی گئی؟
ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی مارکیٹ سے۔








