پاکستان میں سپر فلو وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، بچوں اور بزرگوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

پاکستان میں سپر فلو وائرس کی علامات اور احتیاط
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں سپر فلو وائرس کی تصدیق، تشویش کی لہر دوڑ گئی

پاکستان میں ایک بار پھر صحت کے شعبے سے تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں سپر فلو وائرس موجود ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے باعث طبی ماہرین اور عوام دونوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ وائرس نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

سپر فلو وائرس کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں سپر فلو وائرس دراصل انفلوئنزا A(H3N2) کا ایک نیا سب-کلیڈ ‘K’ ہے، جس میں کچھ جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ یہی تبدیلیاں اس وائرس کو عام فلو کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے والا بناتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں سے تقریباً 20 فیصد میں یہی وائرس پایا گیا ہے، جس سے ملک میں اس کی موجودگی کی واضح تصدیق ہو گئی ہے۔

سپر فلو وائرس کی علامات

ڈاکٹر رانا جاوید اصغر کے مطابق پاکستان میں سپر فلو وائرس کی علامات بظاہر عام فلو جیسی ہی ہیں، لیکن شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان علامات میں شامل ہیں:

شدید سر درد

تیز بخار

ناک کا مسلسل بہنا

گلا خراب ہونا

جسم میں درد اور کمزوری

بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری بھی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔

کون زیادہ خطرے میں ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سپر فلو وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد میں شامل ہیں:

کم عمر بچے

بزرگ شہری

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد

دائمی بیماریوں کے مریض

اسی وجہ سے ڈاکٹرز نے ان طبقات کیلئے خصوصی احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا ہے۔

ویکسینیشن کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر رانا جاوید اصغر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سپر فلو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ویکسینیشن انتہائی اہم ہے۔ بچوں اور بزرگوں کو بروقت فلو ویکسین لگوانی چاہیے تاکہ شدید پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بیمار بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

عالمی صورتحال: WHO کی رپورٹ

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق A(H3N2) سب-کلیڈ ‘K’ نے یورپ کے کئی ممالک میں انفلوئنزا کیسز میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ برطانیہ میں روزانہ 2,600 سے زائد مریض اسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہیں۔

WHO کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں سپر فلو وائرس اور دیگر ممالک میں پھیلنے والی یہ قسم زیادہ جان لیوا نہیں، مگر اس کا پھیلاؤ معمول سے پہلے اور زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔

اسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ

برطانوی وزیر صحت کے مطابق اسپتالوں پر دباؤ COVID-19 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ یہی خدشہ پاکستان میں بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

ماہرین صحت نے پاکستان میں سپر فلو وائرس سے بچاؤ کیلئے درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا ہے:

ہجوم والی جگہوں سے گریز

ماسک کا استعمال

بار بار ہاتھ دھونا

بیمار افراد سے فاصلہ رکھنا

غیر ضروری جسمانی رابطے سے پرہیز

عوام کیلئے پیغام

یہ وقت خوفزدہ ہونے کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا ہے۔ پاکستان میں سپر فلو وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت، طبی ماہرین اور عوام سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان میں پہلی بین الاقوامی ٹیلی سرجری، تاریخی کامیابی

نتیجہ

پاکستان میں سپر فلو وائرس کی تصدیق ایک سنجیدہ معاملہ ہے، مگر بروقت احتیاط، ویکسینیشن اور آگاہی کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند طبی مشوروں پر عمل کریں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]