پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کا حامی، علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت: ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

طاہر اندرابی ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کا حامی،
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کا حامی، علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت: ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

اسلام آباد : دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تمام سنجیدہ کوششوں کو اہم سمجھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے دیرپا حل کا واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے یمن کی صورتحال، پاک بھارت امور، پاک سعودی تعلقات، چین اور افغانستان سے متعلق پاکستان کے مؤقف سمیت متعدد اہم خارجہ پالیسی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

یمن بحران پر پاکستان کا مؤقف

وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف کی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو: پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی

ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ کہا کہ پاکستان یمن میں دیرینہ تنازع کے سیاسی اور پُرامن حل کا خواہاں ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ یمن کے بحران کا حل تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بامقصد مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے تاکہ وہاں کے عوام کو درپیش انسانی مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کو نہایت اہم سمجھتا ہے کیونکہ خطے میں عدم استحکام کے اثرات عالمی امن، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

پاک بھارت قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی گئی۔

طاہر اندرابی نے وضاحت کی کہ یہ عمل 2008 میں طے پانے والے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت ہر سال دو مرتبہ، یکم جنوری اور یکم جولائی کو انجام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیئر تنصیبات اور سہولیات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا جاتا ہے، جو اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہے۔

پاک سعودی روابط اور اعلیٰ سطحی رابطے

ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم پاکستان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس گفتگو کے دوران علاقائی امور اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بھی سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور مستقبل کے تعاون پر بات چیت کی گئی۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات

ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ترجمان کے مطابق پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون سمجھتا ہے۔

ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی تصویر پر وضاحت

ڈھاکا میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے درمیان مصافحے کی تصویر سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وہ اس تصویر کو دیکھ چکے ہیں اور اس معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی خود ایک ٹی وی چینل پر وضاحت بھی دے چکے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بیان میں وہ مزید کسی قسم کا اضافہ یا کمی نہیں کریں گے۔

بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کا اسپیکر ایاز صادق سے مصافحہ
خالدہ ضیا کی نماز جنازہ کے موقع پر پاک بھارت رہنماؤں کا غیر رسمی آمنا سامنا

چین سے متعلق پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ترجمان دفتر خارجہ نے چین سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تائیوان سمیت چین کے تمام بنیادی اور حساس امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسے اقدامات اور سرگرمیوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بنیں۔

سندھ طاس معاہدہ اور بھارت

بھارت سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت کی جانب سے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ سے متعلق رپورٹس دیکھی گئی ہیں اور پاکستان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل اور شفاف عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اس حوالے سے متعدد سوالات ارسال کیے ہیں اور پاکستان ان کے بروقت اور تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔

افغانستان سے متعلق صورتحال

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان علما کی جانب سے جاری کیا گیا فتویٰ اور افغان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم پاکستان اب بھی افغانستان کی جانب سے عملی اقدامات اور ضمانتوں کا منتظر ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد کا ایک قافلہ بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ اس امدادی قافلے کو روک لیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ کہا کہ پاکستان عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول

بریفنگ کے اختتام پر ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت خارجہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے اور اسی پالیسی کے تحت عالمی و علاقائی امور میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]