پاکستان نے ایران سے متعلق امریکا کو انٹیلیجنس معلومات دینے کے دعوے مسترد کر دیے، غیر مصدقہ اطلاعات جاری سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں
اسلام آباد: پاکستان نے ایران سے متعلق امریکا کو انٹیلیجنس معلومات فراہم کرنے کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران سے متعلق حساس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کیں، امریکا کو انٹیلیجنس معلومات فراہم کرنے کے تمام دعوے حقیقت کے منافی اور مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایسی خبروں کو دوٹوک اور غیر مبہم انداز میں مسترد کرتا ہے اور ان دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان کیا بات ہوئی؟
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 29 مئی 2026 کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران علاقائی امن، استحکام اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر بات چیت ہوئی، تاہم کسی قسم کی امریکا کو انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ اطلاعات جاری سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
جنگ بندی کے لیے امریکی کردار کا خیر مقدم
ترجمان دفتر خارجہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے قیام کے لیے امریکا کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے ہر مثبت اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں اور پاکستان خطے کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور پُرامن رابطوں پر یقین رکھتا ہے۔
غیر مصدقہ خبروں سے گریز کی اپیل
طاہر اندرابی نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور تعمیری سفارتکاری کے عزم پر قائم ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور تنازعات کا پرامن حل ہے، اسی تناظر میں پاکستان مختلف عالمی اور علاقائی معاملات میں سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
Weekly Press Briefing by the Spokesperson @TahirAndrabi
On Fake News of Intel-sharing with the US; 🇵🇰 Advocacy for ending violence against Lebanon and US-brokered Lebanon-Israel Ceasefire pic.twitter.com/BPBln1bUq9
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) June 4, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: پاکستان نے کون سے دعوے مسترد کیے ہیں؟
جواب: پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران سے متعلق انٹیلیجنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔
سوال: دفتر خارجہ نے کیا وضاحت دی؟
جواب: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کے درمیان گفتگو میں کسی قسم کی انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ نہیں ہوا۔
سوال: پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟
جواب: پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد، غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔
سوال: پاکستان خطے کے مسائل کے حل کے لیے کیا پالیسی رکھتا ہے؟
جواب: پاکستان مذاکرات، سفارتکاری اور پُرامن رابطوں کے ذریعے علاقائی تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔
سوال: امریکا اور پاکستان کے درمیان حالیہ رابطے میں کیا موضوعات زیر بحث آئے؟
جواب: مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال، علاقائی امن، استحکام اور سفارتی حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔







One Response