پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فریم ورک آخری مراحل میں:شزہ فاطمہ

شزہ فاطمہ خواجہ کا پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فریم ورک سے متعلق بیان

سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز جلد شروع کرنے کی تیاری، شزہ فاطمہ کا اہم اعلان

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ متعلقہ اداروں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد ریگولیٹری فریم ورک کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو سازگار اور آسان کاروباری ماحول فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا اور جدید انٹرنیٹ سہولیات تک رسائی بڑھانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے نئے ضابطوں کی تیاری

شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر کام آخری مراحل میں ہے۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ دور دراز اور ایسے علاقوں میں رابطے کا متبادل فراہم کرسکتا ہے جہاں روایتی براڈبینڈ یا موبائل نیٹ ورک کی رسائی محدود ہو۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے واضح ضابطوں کی موجودگی کمپنیوں کو کاروباری منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم سروسز کی عملی دستیابی، لائسنسنگ کی شرائط اور آغاز کے وقت کا تعین حتمی فریم ورک اور متعلقہ حکام کے فیصلوں کے بعد ہوگا۔

موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم ہونے کا دعویٰ

وفاقی وزیر نے جی ایس ایم اے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو سال کے دوران موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم کرنے کے حوالے سے تیز رفتار پیش رفت کی ہے۔

ان کے مطابق موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق 38 فیصد سے کم ہوکر 8 فیصد رہ گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خواتین اور دیگر محروم طبقات تک ڈیجیٹل سہولیات کی رسائی بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔

انٹرنیٹ تک رسائی میں فرق کم کرنے کے لیے صرف نیٹ ورک کی دستیابی کافی نہیں ہوتی بلکہ سستی ڈیوائسز، ڈیٹا پیکجز، ڈیجیٹل مہارتوں اور محفوظ آن لائن ماحول کی فراہمی بھی اہم ہے۔

پاکستان میں تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز

شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز لینڈ کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے متبادل راستوں اور نئے کیبل روٹس پر بھی کام جاری ہے۔

سب میرین کیبلز عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی رابطوں کے متبادل راستے دستیاب ہونے سے نیٹ ورک کی گنجائش بڑھانے اور کسی ایک راستے میں خرابی کی صورت میں رابطے برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت ملک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہے۔

17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی گئی

وفاقی وزیر نے بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے ملک بھر میں 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں فائبر براڈبینڈ کے ہوم پاسز کی تعداد 2024 میں 30 لاکھ سے کم تھی، جو اب 50 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ہوم پاسز سے مراد وہ گھر یا مقامات ہیں جہاں تک فائبر نیٹ ورک کی رسائی موجود ہو، اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مقامات پر فعال کنکشن بھی نصب ہوچکے ہیں۔

شزہ فاطمہ نے مزید بتایا کہ موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کی شرح 15 فیصد سے کم سطح سے بڑھ کر 19 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ حکومت نے اس شرح کو کم از کم 60 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنے سے زیادہ رفتار اور ڈیٹا کی گنجائش فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو جدید موبائل نیٹ ورکس کے لیے اہم ہے۔

فائیو جی ٹیکنالوجی اور فائبر نیٹ ورک کی اہمیت

وفاقی وزیر کے مطابق مارچ 2026 میں 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے پاکستان میں پہلی مرتبہ فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فائیو جی سروسز کو مؤثر انداز میں فراہم کرنے کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا ناگزیر ہے۔ فائیو جی نیٹ ورک زیادہ رفتار اور ڈیٹا کی بہتر ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے فوائد کا انحصار نیٹ ورک کی گنجائش، ٹاورز کی دستیابی اور بیک ہال کنیکٹیویٹی پر بھی ہوتا ہے۔

حکومت کا مقرر کردہ 60 فیصد فائبرائزیشن ہدف موبائل نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کاروبار کے مواقع

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے سی وی اے ایس لائسنسز کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں مقامی افراد کو انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر بنانے کے لیے نئے کاروباری ماڈل پر بھی کام جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر انٹرنیٹ کی رسائی بڑھانے اور کاروباری مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔

اگر ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد ہوتا ہے تو دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں، طلبہ، چھوٹے کاروباروں اور مقامی اداروں کو ڈیجیٹل سہولیات تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔

قومی کنیکٹیویٹی پلان پر پیش رفت کا جائزہ

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہر پندرہ روز بعد قومی کنیکٹیویٹی پلان پر پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں اور انٹرنیٹ سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی توسیع کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان انٹرنیٹ کی دستیابی کا فرق کم کیا جا سکے۔

ایک کروڑ سے زائد افراد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے ایندھن کی سبسڈی

شزہ فاطمہ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے ایندھن کی سبسڈی حاصل کرچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سبسڈی کے حصول کے لیے اسمارٹ فون کی شرط نہیں رکھی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس مثال کے ذریعے انہوں نے ڈیجیٹل نظاموں کو عام شہریوں کے لیے قابل رسائی بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

ایشیا پیسیفک میں انٹرنیٹ تک رسائی ایک بڑا چیلنج

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب 20 کروڑ افراد اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ ان کے مطابق ایشیا پیسیفک خطے کی تقریباً 48 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اب محض چند افراد کی سہولت نہیں بلکہ تعلیم، صحت، قدرتی آفات سے نمٹنے، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

READ MORE FAQS

سوال 1: پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فریم ورک کہاں تک پہنچا ہے؟
جواب: شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق فکسڈ سیٹلائٹ سروسز کا ریگولیٹری فریم ورک آخری مراحل میں ہے اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔
سوال 2: سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
جواب: سیٹلائٹ انٹرنیٹ ایسے دور دراز علاقوں میں رابطے کا متبادل فراہم کرسکتا ہے جہاں روایتی موبائل یا فائبر نیٹ ورک کی رسائی محدود ہو۔
سوال 3: پاکستان میں کتنی آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے؟
جواب: وفاقی وزیر کے مطابق یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے ملک بھر میں 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے۔
سوال 4: حکومت نے موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کا کیا ہدف مقرر کیا ہے؟
جواب: شزہ فاطمہ کے مطابق حکومت موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کی شرح کم از کم 60 فیصد تک بڑھانا چاہتی ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:48 AM
طلوع آفتاب06:11 AM
ظہر11:54 AM
عصر03:09 PM
مغرب05:38 PM
عشاء07:00 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6